سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
نماز کے مکروہ اوقات
ترقیم الباني: 1371 ترقیم فقہی: -- 624
-" إذا صليت الصبح فأمسك عن الصلاة حتى تطلع الشمس (فإنها تطلع بقرني شيطان)، فإذا طلعت فصل، فإن الصلاة محضورة ومتقبلة، حتى تعتدل على رأسك مثل الرمح، فإذا اعتدلت على رأسك، فإن تلك الساعة تسجر فيها جهنم، وتفتح فيها أبوابها حتى تزول عن حاجبك الأيمن، فإذا زالت عن حاجبك الأيمن فصل، فإن الصلاة محضورة متقبلة حتى تصلي العصر، (ثم دع الصلاة حتى تغيب الشمس)".
سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں جسے آپ جانتے ہیں اور میں نہیں جانتا، کیا دن اور رات میں کوئی ایسی گھڑی بھی ہے جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کی نماز پڑھنے کے بعد طلوع آفتاب تک مزید نماز پڑھنے سے رک جایا کر، کیونکہ سورج شیطان کے سینگوں میں طلوع ہوتا ہے۔ جب سورج طلوع ہو جائے تو تو نماز پڑھ سکتا ہے، اس میں فرشتے بھی حاضر ہوتے ہیں اور وہ قبول بھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ سورج تیرے سر پر نیزے کی طرح کھڑا ہو جائے (یعنی زوال کا وقت شروع ہو جائے)، یہ ایسی گھڑی ہے جس میں جہنم کو گرم کیا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جب سورج ڈھل جائے تو تو نماز عصر تک نماز ادا کر سکتا ہے، اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ بھی قبول ہوتی ہے۔ پھر عصر سے غروب آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 624]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1371
ترقیم الباني: 314 ترقیم فقہی: -- 625
-" لا تصلوا عند طلوع الشمس، ولا عند غروبها فإنها تطلع وتغرب على قرن شيطان وصلوا بين ذلك ما شئتم".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطان کے سینگ پر طلوع اور غروب ہوتا ہے، (طلوع اور غروب) کے درمیان جیسے چاہو نماز پڑھو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 625]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 314
ترقیم الباني: 3041 ترقیم فقہی: -- 626
- (لا تُصَلُّوا حتى تَرْتَفعَ الشمسُ؛ فإنَّها تَطْلُعُ بينَ قَرْنَيِ الشَّيطانِ).
سعید بن نافع کہتے ہیں ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول ہیں، نے مجھے دیکھا اور میں طلوع آفتاب کے وقت چاشت کی نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے میرے اس عمل کو معیوب قرار دیا اور مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تک نماز نہ پڑھو، جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے، کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 626]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3041