سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
”آمین“ کہنے کی فضیلت
ترقیم الباني: 1263 ترقیم فقہی: -- 659
-" إذا أمن القارئ فأمنوا، فإن الملائكة تؤمن، فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ (اس وقت) فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کرے گی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 659]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1263
ترقیم الباني: 2534 ترقیم فقہی: -- 660
-" إذا قرأ الإمام: * (غير المغضوب عليهم ولا الضالين) *، فأمن الإمام فأمنوا، فإن الملائكة تؤمن على دعائه، فمن وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ” «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی امام کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 660]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2534
ترقیم الباني: 692 ترقیم فقہی: -- 661
-" إن اليهود ليحسدونكم على السلام والتأمين".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی لوگ تمہاری (ان دو خصلتوں) پر تم سےحسد کرتے ہیں: سلام کہنا اور آمین کہنا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 661]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 692
ترقیم الباني: 691 ترقیم فقہی: -- 662
-" إن اليهود قوم حسد وإنهم لا يحسدوننا على شيء كما يحسدونا على السلام وعلى (آمين)".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور (السلام علیکم کی بجائے)کہا: اے محمد! «اَلسَّامُ عَليكم» (یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں جواب دیا «وعليك» (اور تجھ پر بھی ہو)۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ ایک دوسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَليكم» (آپ پر موت اور ہلاکت پڑے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وعليك» (اور تجھ پر بھی ہو)۔“ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناپسند کرنے کی وجہ سے (خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَليكم» مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ جس انداز میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام نہیں دیا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (یہودیوں) نے «اَلسَّامُ عَليكم» کہا اور ہم نے بھی (بدگوئی سے بچتے ہوئے صرف «وعليك» کہہ کر) جوب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 662]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 691