صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ شَهَادَةِ الْمُرْضِعَةِ:
باب: دودھ کی ماں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2660
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ دَعْهَا عَنْكَ أَوْ نَحْوَهُ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا عمر بن سعید سے، وہ ابن ابی ملیکہ سے، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی تھی۔ پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ اس لیے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں بتا دیا گیا (کہ ایک ہی عورت تم دونوں کی دودھ کی ماں ہے) تو پھر اب اور کیا صورت ہو سکتی ہے اپنی بیوی کو اپنے سے جدا کر دے۔“ یا اسی طرح کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2660]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی، ایک عورت آئی اور کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”جب یہ بات کہہ دی گئی ہے تو اب کیا ہو سکتا ہے؟ اس عورت کو اپنے سے علیحدہ کر دو۔“ یا اس جیسا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة