صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ الْغَسْلِ بَعْدَ الْحَرْبِ وَالْغُبَارِ:
باب: جنگ اور گرد غبار کے بعد غسل کرنا۔
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ الْغُبَارُ، فَقَالَ:" وَضَعْتَ السِّلَاحَ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ؟ قَالَ: هَا هُنَا وَأَوْمَأَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، قَالَتْ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ہشام بن عروہ سے ‘ انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ خندق سے (فارغ ہو کر) واپس آئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کرنا چاہا تو جبرائیل علیہ السلام آئے ‘ ان کا سر غبار سے اٹا ہوا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ نے ہتھیار اتار دیئے ‘ اللہ کی قسم میں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تو پھر اب کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا ادھر اور بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے خلاف لشکر کشی کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2813]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خندق سے واپس ہوئے تو آپ نے ہتھیار اتارے اور غسل فرمایا۔ اس وقت جبریل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے جبکہ ان کا سر گردوغبار سے اٹا ہوا تھا، انہوں نے کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں؟ لیکن اللہ کی قسم! میں نے تو ابھی تک نہیں اتارے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہارا کہاں کا پروگرام ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اس طرف اور بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت ان کی طرف روانہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2813]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة