🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ الْغُسْلِ بِالصَّاعِ وَنَحْوِهِ:
باب: اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَبَهْزٌ، وَالْجُدِّيُّ، عَنْ شُعْبَةَ: قَدْرِ صَاعٍ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد نے، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن حفص نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے یہ حدیث سنی کہ میں (ابوسلمہ) اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ (نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔) [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 251]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا، پھر غسل کیا اور اسے اپنے سر پر بہایا، اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز (بن اسعد) اور (عبدالملک بن ابراہیم) جدی نے حضرت شعبہ رحمہ اللہ سے قدرِ صاع کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 252
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ وَأَبُوهُ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْغُسْلِ، فَقَالَ: يَكْفِيكَ صَاعٌ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَكْفِينِي، فَقَالَ جَابِرٌ:" كَانَ يَكْفِي مَنْ هُوَ أَوْفَى مِنْكَ شَعَرًا وَخَيْرٌ مِنْكَ"، ثُمَّ أَمَّنَا فِي ثَوْبٍ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے ابواسحاق کے واسطے سے، انہوں نے کہا ہم سے ابوجعفر (محمد باقر) نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے والد (جناب زین العابدین) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے آپ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایک صاع کافی ہے۔ اس پر ایک شخص بولا یہ مجھے تو کافی نہ ہو گا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پھر جابر رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کپڑا پہن کر ہمیں نماز پڑھائی۔ (نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔) [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 252]
حضرت ابوجعفر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے والد گرامی، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، جبکہ ان کے ہاں اور لوگ بھی تھے۔ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے غسل کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: تجھے ایک صاع کافی ہے۔ اس پر انہی لوگوں میں سے کسی نے کہا: مجھے تو کافی نہیں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اتنا پانی تو اس ذاتِ گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال بھی تجھ سے زیادہ تھے اور وہ خود بھی تجھ سے بہتر تھے۔ پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ایک کپڑے میں ہماری امامت کرائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 252]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 253
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةَ كَانَا يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: أَخِيرًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى أَبُو نُعَيْمٍ.
ہم سے ابونعیم نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو کے واسطہ سے بیان کیا، وہ جابر بن زید سے، وہ عبداللہ بن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا ایک برتن میں غسل کر لیتے تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ اخیر عمر میں اس حدیث کو یوں روایت کرتے تھے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے اور صحیح وہی روایت ہے جو ابونعیم نے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 253]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا ایک ہی برتن سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن عیینہ رحمہ اللہ آخر عمر میں «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ» کہنے لگے تھے، لیکن صحیح الفاظ وہی ہیں جو ابونعیم رحمہ اللہ نے بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 253]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں