مجموعه ضعيف احاديث سے متعلقہ
چھینک کے وقت الحمد اللہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 1050
من عطس أو تجشأ أو سمع عطسة أو جشاء فقال: الحمد لله على كل حال من الأحوال، صرف الله عنه سبعين داء أهوانها الجذام
”جسے چھینک آئی یا ڈکار لیا یا جس نے چھینک یا ڈکار سنا اور کہا: «الحمد لله على كل حال من الاحوال» تو اللہ تعالیٰ اس سے ستر بیماریاں دور فرما دیں گے جن میں سب سے ہلکی کوڑھ ہے۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ [الموضوعات 76/3]
امام شوکانی رحمہ اللہ اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں محمد بن کثیر راوی متروک ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 222] ، [اللآلي المصنوعة 241/2]
علامہ طاہر پٹنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ [تذكرة الموضوعات ص: 165]
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ [السلسلة الضعيفة 6137]
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ [الموضوعات 76/3]
امام شوکانی رحمہ اللہ اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں محمد بن کثیر راوی متروک ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 222] ، [اللآلي المصنوعة 241/2]
علامہ طاہر پٹنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ [تذكرة الموضوعات ص: 165]
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ [السلسلة الضعيفة 6137]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1051
ما من مسلم يعطس عطسة فقال الحمد لله الا خلق الله من عطاسه ملكا يحمد الله عز و جل الي يوم القيامة
”جس کسی مسلمان کو چھینک آئے اور وہ کہے «الحمد لله» تو اللہ تعالیٰ اس کی چھینک سے ایک فرشتہ تخلیق فرماتے ہیں جو قیامت تک اللہ کی حمد بیان کرتا رہے گا۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
امام شوکانی رحمہ اللہ اور علامہ طاہر پٹنی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں ایک راوی متہم بالوضع ہے، اور علامہ ابن عراق رحمہ اللہ نے اس کا نام علی بن ابراہیم بلدی ذکر کیا ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 227] ، [تذكرة الموضوعات ص: 165] ، [تنزيه الشريعة 410/2]
امام شوکانی رحمہ اللہ اور علامہ طاہر پٹنی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں ایک راوی متہم بالوضع ہے، اور علامہ ابن عراق رحمہ اللہ نے اس کا نام علی بن ابراہیم بلدی ذکر کیا ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 227] ، [تذكرة الموضوعات ص: 165] ، [تنزيه الشريعة 410/2]
الحكم على الحديث:
موضوع