صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
190. بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الْغُلُولِ:
باب: مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری کر لینا۔
حدیث نمبر: Q3074
وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ حَرَّقَ مَتَاعَهُ وَهَذَا أَصَحُّ".
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے باب کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرانے والے کا اسباب جلا دیا تھا اور یہ زیادہ صحیح ہے اس روایت سے جس میں جلانے کا ذکر ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q3074]
حدیث نمبر: 3074
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، يُقَالُ لَهُ: كِرْكِرَةُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ فِي النَّارِ فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ ابْنُ سَلَامٍ كَرْكَرَةُ: يَعْنِي بِفَتْحِ الْكَافِ وَهُوَ مَضْبُوطٌ كَذَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے ‘ ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان و اسباب پر ایک صاحب مقرر تھے ‘ جن کا نام کرکرہ تھا۔ ان کا انتقال ہو گیا ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو جہنم میں گیا۔ صحابہ انہیں دیکھنے گئے تو ایک عباء جسے خیانت کر کے انہوں نے چھپا لیا تھا ان کے یہاں ملی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ محمد بن سلام نے (ابن عیینہ سے نقل کیا اور) کہا یہ لفظ «كركرة» بفتح کاف ہے اور اسی طرح منقول ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3074]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان پر ایک شخص تعینات تھا جسے «كَرْكَرَةُ» (کرکرہ) کہا جاتا تھا۔ جب وہ مر گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هُوَ فِي النَّارِ» ”وہ تو جہنم میں گیا۔“ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کا سامان وغیرہ دیکھنا شروع کیا تو اس میں ایک کوٹ ملا جسے خیانت کر کے اس نے چھپا لیا تھا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ محمد بن سلام نے «كَرْكَرَةُ» کو کاف کے فتحہ (زبر) سے بیان کیا ہے اور اسی طرح مضبوط ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3074]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة