🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

192. بَابُ الْبِشَارَةِ فِي الْفُتُوحِ:
باب: فتح کی خوشخبری دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3076
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: قَالَ لِي: جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِيهِ خَثْعَمُ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ، فَقَالَ: رَسُولُ جَرِيرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَارَكَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بَيْتٌ فِي خَثْعَمَ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسماعیل بن ابوخالد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذی الخلصہ (یمن کے کعبے) کو تباہ کر کے مجھے کیوں خوش نہیں کرتے۔ یہ ذی الخلصہ (یمن کے قبیلہ) خثعم کا بت کدہ تھا (کعبے کے مقابل بنایا تھا) جسے کعبۃ الیمانیہ کہتے تھے۔ چنانچہ میں (اپنے قبیلہ) احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر تیار ہو گیا۔ یہ سب اچھے شہسوار تھے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں گھوڑے پر اچھی طرح سے جم نہیں پاتا تو آپ نے میرے سینے پر (دست مبارک) مارا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کا نشان اپنے سینے پر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ دعا دی «اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا ‏"‏‏.‏ فانطلق إليها فكسرها وحرقها» اے اللہ! اسے گھوڑے پر جما دے اور اسے صحیح راستہ دکھانے والا بنا دے اور خود اسے بھی راہ پایا ہوا کر دے۔ پھر جریر رضی اللہ عنہ مہم پر روانہ ہوئے اور ذی الخلصہ کو توڑ کر جلا دیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خوشخبری بھجوائی جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد (حسین بن ربیعہ) نے (خدمت نبوی میں) حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا جب تک وہ بت کدہ جل کر ایسا (سیاہ) نہیں ہو گیا جیسا خارش والا بیمار اونٹ سیاہ ہوا کرتا ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور ان کے پیدل جوانوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی مسدد نے اس حدیث میں یوں کہا ذی الخلصہ خثعم قبیلے میں ایک گھر تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3076]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ذی الخلصہ کو تباہ کر کے مجھے کیوں خوش نہیں کرتے ہو؟ یہ قبیلہ خشعم کا بت کدہ تھا جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا، چنانچہ میں (قبیلہ) احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر تیار ہو گیا اور یہ سب بہترین شہسوار تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں گھوڑے پر اچھی طرح جم کر بیٹھ نہیں سکتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر تھپکا دیا حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کا اثر اپنے سینے میں پایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» اے اللہ! اس کو (گھوڑے پر) جما دے، اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ اس کے بعد حضرت جریر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور اسے تباہ و برباد کر کے آگ میں جلا دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قاصد روانہ کیا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا، جب تک وہ بت کدہ جل کر خارشی اونٹ کی طرح سیاہ نہیں ہو گیا۔ تب (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے شہ سواروں اور ان کے پیدل جوانوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔ (راویِ حدیث) مسدد نے کہا: ذی خلصہ قبیلہ بنو خشعم کا ایک بت کدہ تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3076]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں