صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
199. بَابُ الطَّعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ:
باب: مسافر جب سفر سے لوٹ کر آئے تو لوگوں کو کھانا کھلائے (دعوت کرے)۔
حدیث نمبر: Q3089
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ لِمَنْ يَغْشَاهُ.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (جب سفر سے واپس آتے تو) ملاقاتیوں کے آنے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q3089]
حدیث نمبر: 3089
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَحَرَ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً" زَادَ مُعَاذٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ" اشْتَرَى مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوَقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو وکیع نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں محارب بن دثار نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے (غزوہ تبوک یا ذات الرقاع سے) تو اونٹ یا گائے ذبح کی (راوی کو شبہ ہے) معاذ عنبری نے (اپنی روایت میں) کچھ زیادتی کے ساتھ کہا۔ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محارب بن دثار نے ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اونٹ خریدا تھا۔ دو اوقیہ اور ایک درہم یا (راوی کو شبہ ہے کہ دو اوقیہ) دو درہم میں۔ جب آپ مقام صرار پر پہنچے تو آپ نے حکم دیا اور گائے ذبح کی گئی اور لوگوں نے اس کا گوشت کھایا۔ پھر جب آپ مدینہ منورہ پہنچے تو مجھے حکم دیا کہ پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھوں ‘ اس کے بعد مجھے میرے اونٹ کی قیمت وزن کر کے عنایت فرمائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3089]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (تبوک سے) مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اونٹ یا گائے کو ذبح کیا۔ معاذ عنبری کی روایت میں کچھ اضافہ ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم کے عوض اونٹ خریدا۔ جب آپ مقام صرار پر پہنچے تو آپ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے ذبح کیا گیا اور لوگوں نے اس کا گوشت کھایا۔ جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مجھے حکم دیا کہ میں (پہلے) مسجد میں جاؤں اور وہاں دو رکعتیں ادا کروں۔ اس کے بعد مجھے میرے اونٹ کی قیمت وزن کرکے عطا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3089]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3090
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ صِرَارٌ مَوْضِعٌ نَاحِيَةٌ بِالْمَدِينَةِ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محارب بن دثار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں سفر سے واپس مدینہ پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ مسجد میں جا کر دو رکعت نفل نماز پڑھوں ‘ صرار (مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر مشرق میں) ایک جگہ کا نام ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3090]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب میں سفر سے واپس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت نماز پڑھو۔“ صرار، مدینہ طیبہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3090]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة