🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ مَا يُصِيبُ مِنَ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ:
باب: اگر کھانے کی چیزیں کافروں کے ملک میں ہاتھ آ جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3153
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کے محل کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ کسی شخص نے ایک کپی پھینکی جس میں چربی بھری ہوئی تھی۔ میں اسے لینے کے لیے لپکا، لیکن مڑ کر جو دیکھا تو پاس ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3153]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم خیبر کے محل کا محاصرہ کیے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے ایک توشہ دان پھینکا جس میں چربی تھی۔ میں اسے لینے کے لیے جلدی سے لپکا لیکن میں نے مڑ کر دیکھا تو پاس ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ میں اس وقت شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3153]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3154
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا نُصِيبُ فِي مَغَازِينَا الْعَسَلَ، وَالْعِنَبَ فَنَأْكُلُهُ، وَلَا نَرْفَعُهُ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) غزووں میں ہمیں شہد اور انگور ملتا تھا۔ ہم اسے اسی وقت کھا لیتے (تقسیم کے لیے اٹھا نہ رکھتے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3154]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم غزوات کے دوران میں شہد اور انگور پاتے تو انہیں کھا لیتے تھے اور اسے اٹھا نہ رکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3154]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3155
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَانْتَحَرْنَاهَا فَلَمَّا غَلَتِ الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْفِئُوا الْقُدُورَ فَلَا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ، فَقُلْنَا:" إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ، قَالَ:" وَقَالَ آخَرُونَ حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ وَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے بیان کیا، کہا میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ جنگ خیبر کے موقع پر فاقوں پر فاقے ہونے لگے۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو (مال غنیمت میں) گھریلو گدھے بھی ہمیں ملے۔ چنانچہ انہیں ذبح کر کے (پکانا شروع کر دیا گیا) جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو اور گھریلو گدھے کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض لوگوں نے اس پر کہا کہ غالباً پ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے روک دیا ہے کہ ابھی تک اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا۔ لیکن بعض دوسرے صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔ (شیبانی نے بیان کیا کہ) میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قطعی طور پر حرام کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3155]
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں خیبر کی راتوں میں فاقوں پر فاقے ہونے لگے۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو گھریلو گدھے بھی (بطور غنیمت) ملے، چنانچہ ہم نے انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کر دیا۔ جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو اور گدھوں کے گوشت سے کچھ نہ کھاؤ۔ عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہمارے خیال کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے منع فرمایا کہ ان سے ابھی خمس نہیں نکالا گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی طور پر گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا ہے۔ راویِ حدیث کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی طور پر اسے حرام کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3155]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں