صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ} إِلَى قَوْلِهِ: {إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ}:
باب: (سورۃ لقمان میں) اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی (جو یہ تھی) کہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہو“ اس فرمان تک ”بیشک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا“۔
حدیث نمبر: Q3428
{وَلاَ تُصَعِّرْ} الإِعْرَاضُ بِالْوَجْهِ.
«ولا تصعر» یعنی اپنا چہرہ نہ پھیر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: Q3428]
حدیث نمبر: 3428
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82، قَالَ: أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَنَزَلَتْ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنے ایمان میں ظلم نہیں کیا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ بیشک شرک ہی ظلم عظیم ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3428]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا ہو؟ تو یہ آیت ﴿لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”اللہ کے ساتھ شرک نہ کر کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے“ نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3429
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا، قَالَ: لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3429]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82] ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا۔۔۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) پر بہت شاق گزری اور عرض کرنے لگے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد عام ظلم نہیں بلکہ شرک مراد ہے۔ کیا تم نے حضرت لقمان کا قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے لختِ جگر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: ﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة لقمان: 13] ”اے پیارے بیٹے! شرک نہ کرنا کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3429]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة