صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:
باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3768
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا:" يَا عَائِشَ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ"، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , تَرَى مَا لَا أَرَى , تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا ”اے عائش یہ جبرائیل علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں“ میں نے اس پر جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ وہ چیز ملاحظہ فرماتے ہیں جو مجھ کو نظر نہیں آتی (آپ کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3768]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو آپ کو سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے جواب دیا: ” «وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”ان پر سلامتی ہو، اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکات نازل ہوں۔“ یقیناً آپ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھ سکتی۔“ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مراد لے رہی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3768]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3769
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وحَدَّثَنَا عَمْرٌو، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا: مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ , وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ , وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا (امام بخاری رحمہ اللہ نے) اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں مرہ نے اور انہیں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں میں تو بہت سے کامل پیدا ہوئے لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی، اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت بقیہ تمام کھانوں پر ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3769]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت سے مرد کمال کو پہنچے ہیں لیکن عورتوں میں صرف مریم بنت عمران علیہا السلام اور فرعون کی بیوی آسیہ باکمال ہوئیں اور تمام عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر برتری حاصل ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3769]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3770
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت اور تمام کھانوں پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3770]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دوسری تمام عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جو «الثَّرِيدِ» ”ثرید“ کو دوسرے تمام کھانوں پر ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3770]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3771
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ اشْتَكَتْ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقْدَمِينَ عَلَى فَرَطِ صِدْقٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَبِي بَكْرٍ".
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے بیان کیا، ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار پڑیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما عیادت کے لیے آئے اور عرض کیا: ام المؤمنین! آپ تو سچے جانے والے کے پاس جا رہی ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر کے پاس (عالم برزخ میں ان سے ملاقات مراد تھی)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3771]
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی تیمار داری کے لیے حاضر ہوئے اور فرمایا: ”اے اُم المومنین! آپ تو اپنے سچے پیش روؤں کے پاس جائیں گی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3771]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ , سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ خَطَبَ عَمَّارٌ، فَقَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے اور انہوں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے عمار اور حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ بھیجا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے تیار کریں تو عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: مجھے بھی خوب معلوم ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ دیکھے تم علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہو (جو برحق خلیفہ ہیں) یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3772]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ روانہ کیا تاکہ لوگوں کو ان کی مدد پر آمادہ کریں اور انہیں اس مقصد کے لیے باہر نکالیں تو وہاں پہنچ کر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”ہمیں اس بات کا علم ہے کہ وہ (اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) دنیا وآخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ تم اس (اللہ) کی پیروی کرتے ہو یا اس کے مقابلے میں تم اُم المومنین کی پیروی کرتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3773
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا , فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ:" جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں جانے کے لیے) آپ نے (اپنی بہن) اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریتاً لے لیا تھا، اتفاق سے وہ راستے میں کہیں گم ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا، اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا تو ان حضرات نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے صورت حال کے متعلق عرض کیا۔ اس کے بعد تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! تم پر جب بھی کوئی مرحلہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے نکلنے کی سبیل تمہارے لیے پیدا کر دی، اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی اس میں برکت پیدا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3773]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار مستعار لیا جو راستے میں گم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاش میں چند ایک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانہ کیا۔ اس دوران میں نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے وضو کے بغیر ہی نماز پڑھ لی، تاہم جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اس امر کی شکایت کی، اس وقت آیت تیمم نازل ہوئی۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جزائے خیر دے، آپ جب بھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوئیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہاں سے نجات دی اور اس میں مسلمانوں کے لیے برکت کا سامان پیدا فرما دیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3773]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3774
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ جَعَلَ يَدُورُ فِي نِسَائِهِ، وَيَقُولُ:" أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا" , حِرْصًا عَلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي سَكَنَ".
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں بھی ازواج مطہرات کی باری کی پابندی فرماتے رہے البتہ یہ دریافت فرماتے رہے کہ کل مجھے کس کے یہاں ٹھہرنا ہے؟ کیونکہ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے خواہاں تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب میرے یہاں قیام کا دن آیا تو آپ کو سکون ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3774]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مرضِ وفات میں تھے تو ہر روز اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور فرماتے: «أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟» ”میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آنے کی خواہش تھی۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میری باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکون ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3774]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3775
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَاجْتَمَعَ صَوَاحِبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقُلْنَ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ وَاللَّهِ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّا نُرِيدُ الْخَيْرَ كَمَا تُرِيدُهُ عَائِشَةُ فَمُرِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ أَنْ يُهْدُوا إِلَيْهِ حَيْثُ مَا كَانَ أَوْ حَيْثُ مَا دَارَ، قَالَتْ: فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَعْرَضَ عَنِّي , فَلَمَّا عَادَ إِلَيَّ ذَكَرْتُ لَهُ ذَاكَ فَأَعْرَضَ عَنِّي , فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے کہا، ہم سے ہشام نے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے کہا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے بھیجنے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری سوکنیں سب ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان سے کہا: اللہ کی قسم لوگ جان بوجھ کر اپنے تحفے اس دن بھیجتے ہیں جس دن عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری ہوتی ہے، ہم بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح اپنے لیے فائدہ چاہتی ہیں، اس لیے تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ لوگوں کو فرما دیں کہ میں جس بھی بیوی کے پاس رہوں جس کی بھی باری ہو اسی گھر میں تحفے بھیج دیا کرو۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کی، آپ نے کچھ بھی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے دوبارہ عرض کیا جب بھی جواب نہ دیا، پھر تیسری بار عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلمہ! عائشہ کے بارے میں مجھ کو نہ ستاؤ۔ اللہ کی قسم! تم میں سے کسی بیوی کے لحاف میں (جو میں اوڑھتا ہوں سوتے وقت) مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہاں (عائشہ کا مقام یہ ہے) ان کے لحاف میں وحی نازل ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3775]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن اپنے ہدایا اور نذرانے پیش کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر جمع ہوئیں اور کہنے لگیں: ”اللہ کی قسم! اے ام سلمہ! لوگ اپنے ہدایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ہم بھی خیر و برکت کی خواہش مند ہیں جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خیر و برکت کو چاہتی ہیں۔ اس لیے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ وہ لوگوں سے کہیں، وہ اپنے نذرانے آپ جہاں بھی ہوں پیش کر دیا کریں۔“ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب پھر میری باری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے دوبارہ عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مجھ سے اعراض کیا۔ جب تیسری مرتبہ تشریف لائے تو میں نے پھر اپنے موقف کو دہرایا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ رضی اللہ عنہا! تم مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق تکلیف نہ دو۔ اللہ کی قسم! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی بیوی کے لحاف میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3775]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة