🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ» . وَمَرْثِيَتِهِ لِمَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کہ اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھ اور جو مہاجر مکہ میں انتقال کر گئے ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار رنج و غم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3936
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ مَرَضٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى , وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي، قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ، قَالَ:" الثُّلُثُ يَا سَعْدُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ , إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ ذُرِّيَّتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ , وَلَسْتَ بِنَافِقٍ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا آجَرَكَ اللَّهُ بِهَا , حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي، قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ , اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ , وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ" , لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ. وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ , وَمُوسَى: عَنْ إِبْرَاهِيمَ،" أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ".
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عامر بن سعد بن مالک نے اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع 10 ھ کے موقع پر میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ اس مرض میں میرے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مرض کی شدت آپ خود ملاحظہ فرما رہے ہیں، میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی وارث ہے تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آدھے کا کر دوں؟ فرمایا کہ سعد! بس ایک تہائی کا کر دو، یہ بھی بہت ہے۔ تو اگر اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ احمد بن یونس نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے کہ تم اپنی اولاد کو چھوڑ کر جو کچھ بھی خرچ کرو گے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہو گی تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا ثواب دے گا، اللہ تمہیں اس لقمہ پر بھی ثواب دے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے مکہ میں رہ جاؤں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پیچھے نہیں رہو گے اور تم جو بھی عمل کرو گے اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہو گی تو تمہارا مرتبہ اس کی وجہ سے بلند ہوتا رہے گا اور شاید تم ابھی بہت دنوں تک زندہ رہو گے تم سے بہت سے لوگوں (مسلمانوں) کو نفع پہنچے گا اور بہتوں کو (غیرمسلموں) نقصان ہو گا۔ اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت پوری کر دے اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر (کہ وہ ہجرت کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس آ جائیں) البتہ سعد بن خولہ نقصان میں پڑ گئے اور احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل نے اس حدیث کو ابراہیم بن سعد سے روایت کیا اس میں (اپنی اولاد ذریت کو چھوڑو، کے بجائے) تم اپنے وارثوں کو چھوڑو یہ الفاظ مروی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3936]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری تیمارداری کے لیے تشریف لائے۔ میں اس بیماری میں موت کے قریب ہو گیا تھا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے مرض کی شدت آپ خود ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ میرے پاس مال کی فراوانی ہے اور میری صرف ایک بیٹی وارث ہے۔ کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں عرض کی: نصف مال صدقہ کر دوں؟ فرمایا: ایک تہائی (صدقہ کر دو) اور یہ تہائی بھی بہت ہے۔ تمہارا اپنی اولاد کو مال دار چھوڑ کر جانا اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو، وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ احمد بن یونس نے ابراہیم بن سعد سے یہ روایت «أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ» کے بعد بایں الفاظ نقل کی ہے: تم جو بھی خرچ کرو جس سے مقصود اللہ کی رضا مندی ہو تو اس کا ثواب تمہیں اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرمائے گا حتی کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے وہ بھی باعث ثواب ہو گا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا میں اپنے ساتھیوں کے بعد (مکہ میں) پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہرگز پیچھے نہیں رہو گے۔ تم جو عمل بھی اللہ کی رضاجوئی کے لیے کرو گے، اس سے تمہارا درجہ اور مرتبہ اور زیادہ ہو گا۔ شاید تم ان کے بعد زندہ رہو گے حتی کہ تمہارے سبب ایک قوم نفع اٹھائے گی اور دوسرے لوگ نقصان پہنچائے جائیں گے۔ «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت قبول فرما اور انہیں ایڑیوں کے بل نہ لوٹا۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے چارے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر افسوس کرتے تھے کہ وہ مکہ مکرمہ میں فوت ہو گئے۔ احمد بن یونس اور موسیٰ نے ابراہیم سے «أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ» بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3936]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں