🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ: {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ}:
باب: جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایمانداروں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4061
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ مُعْتَمِرٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: زَعَمَ أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي يُقَاتِلُ فِيهِنَّ , غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے معتمر نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ابوعثمان بیان کرتے تھے کہ ان غزوات میں سے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے قتال کیا۔ بعض غزوہ (احد) میں ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طلحہ اور سعد کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ ابوعثمان نے یہ بات طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما سے روایت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4061]
حضرت ابوعثمان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جن (بعض) ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کفار سے لڑائی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ حضرت ابوعثمان رحمہ اللہ نے یہ بات حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے سن کر بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4061]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4062
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ , قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ , قَالَ:" صَحِبْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ , وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ , وَالْمِقْدَادَ , وَسَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ".
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید نے کہ میں، عبدالرحمٰن بن عوف، طلحہ بن عبیداللہ، مقداد بن اسود اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کی صحبت میں رہا ہوں لیکن میں نے ان حضرات میں سے کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ صرف طلحہ رضی اللہ عنہ سے غزوہ احد کے متعلق حدیث سنی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4062]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں عبدالرحمٰن بن عوف، طلحہ بن عبیداللہ، مقداد (بن اسود) اور حضرت سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہم کا ساتھی رہا ہوں۔ میں نے ان میں سے کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، البتہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ غزوۂ احد کے متعلق بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4062]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4063
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ قَيْسٍ , قَالَ:" رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ".
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا۔ اس ہاتھ سے انہوں نے غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4063]
حضرت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا، اس ہاتھ سے انہوں نے غزوۂ اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4063]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4064
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ كَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ بِجَعْبَةٍ مِنَ النَّبْلِ , فَيَقُولُ: انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ , قَالَ: وَيُشْرِفُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ , فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ , نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ , وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ , ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احد میں جب مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے منتشر ہو کر پسپا ہو گئے تو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے چمڑے کی ڈھال سے حفاظت کر رہے تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے تیرانداز تھے اور کمان خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے۔ اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑ دی تھیں۔ مسلمانوں میں سے کوئی اگر تیر کا ترکش لیے گزرتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے یہ تیر ابوطلحہ کے لیے یہیں رکھتے جاؤ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو دیکھنے کے لیے سر اٹھا کر جھانکتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، سر مبارک اوپر نہ اٹھایئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ادھر سے کوئی تیر آپ کو لگ جائے۔ میری گردن آپ سے پہلے ہے اور میں نے دیکھا کہ جنگ میں عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور (انس رضی اللہ عنہ کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے ہیں کہ ان کی پنڈلیاں نظر آ رہی تھیں اور مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے دوڑ رہی ہیں اور اس کا پانی زخمی مسلمانوں کو پلا رہی ہیں پھر (جب اس کا پانی ختم ہو جاتا ہے) تو واپس آتی ہیں اور مشک بھر کر پھر لے جاتی ہیں اور مسلمانوں کو پلاتی ہیں۔ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4064]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب غزوہ احد میں لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیا تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال لے کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ڈھال بنے ہوئے تھے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ زبردست تیر انداز تھے، انہوں نے اس روز دو یا تین کمانیں توڑی تھیں۔ اس دوران میں جو آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے تیروں کا ترکش لے کر گزرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: ان تیروں کو طلحہ (رضی اللہ عنہ) کے پاس رکھ دو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک اٹھا کر کافروں کو دیکھتے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے: میرے باپ آپ پر قربان ہوں! آپ سر مبارک نہ اٹھائیں، مبادا کفار کا کوئی تیر آپ کو لگ جائے۔ میرا سینہ آپ کے سینے کے آگے قربانی کے لیے موجود ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو بایں حالت دیکھا کہ وہ کپڑے اٹھائے ہوئے ہیں، میں ان کے پازیب دیکھ رہا تھا وہ اپنی پشتوں پر مشکیں بھر بھر کر لا رہی تھیں اور لوگوں کے منہ میں ڈال رہی تھیں۔ پھر واپس جاتیں اور مشکیں بھر کر لاتیں، پھر لوگوں کے منہ میں پانی انڈیل دیتیں۔ اس دن حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر پڑی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4064]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4065
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ. فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ فَبَصُرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ فَقَالَ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي. قَالَ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ. قَالَ عُرْوَةُ فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ. بَصُرْتُ عَلِمْتُ، مِنَ الْبَصِيرَةِ فِي الأَمْرِ، وَأَبْصَرْتُ مِنْ بَصَرِ الْعَيْنِ وَيُقَالُ بَصُرْتُ وَأَبْصَرْتُ وَاحِدٌ.
مجھ سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ شروع جنگ احد میں پہلے مشرکین شکست کھا گئے تھے لیکن ابلیس، اللہ کی اس پر لعنت ہو، دھوکا دینے کے لیے پکارنے لگا۔ اے عباد اللہ! (مسلمانو!) اپنے پیچھے والوں سے خبردار ہو جاؤ۔ اس پر آگے جو مسلمان تھے وہ لوٹ پڑے اور اپنے پیچھے والوں سے بھڑ گئے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ انہیں میں ہیں (جنہیں مسلمان اپنا دشمن مشرک سمجھ کر مار رہے تھے)۔ وہ کہنے لگے مسلمانو! یہ تو میرے والد ہیں، میرے والد۔ عروہ نے کہا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، پس اللہ کی قسم انہوں نے ان کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک قتل نہ کر لیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا کہ اللہ مسلمانوں کی غلطی معاف کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر مغفرت کی دعا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ «بصرت» یعنی میں دل کی آنکھوں سے کام کو سمجھتا ہوں اور «أبصرت» آنکھوں سے دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ «بصرت» اور «أبصرت» کے ایک ہی معنی ہیں۔ «بصرت» دل کی آنکھوں سے دیکھنا اور «أبصرت» ظاہر کی آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4065]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اُحد کے دن مشرکین شکست خوردہ ہو کر بھاگ نکلے تو ابلیس لعین نے بآوازِ بلند پکارا: اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں سے خبردار ہو جاؤ، اس بنا پر آگے جانے والے پیچھے آنے والوں سے بھٹ گئے۔ اس دوران میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے والد گرامی یمان رضی اللہ عنہ انہی میں ہیں (جنہیں مسلمان اپنا دشمن سمجھ کر مار رہے ہیں)۔ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے بندو! یہ تو میرے والد ہیں، میرے والد کا خیال کرو! لیکن لوگ نہ رُکے حتی کہ انہوں نے ان کو شہید کر دیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کے لیے ہمیشہ دعا کرتے رہے حتی کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے۔ (امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:) «بَصُرْتُ» کے معنی صاحبِ بصیرت ہونا ہے، یعنی اس کے معنی «عَلِمْتُ» کسی امر میں بصیرت ہے جبکہ «أَبْصَرْتُ» آنکھوں سے دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ «بَصُرْتُ» اور «أَبْصَرْتُ» ایک ہی چیز ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4065]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں