🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب الأذان
اذان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
عن عبد الله بن زيد بن عبد ربه قال: طاف بي وأنا نائم رجل فقال: تقول: الله أكبر الله أكبر فذكر الأذان بتربيع التكبير بغير ترجيع والإقامة فرادى إلا قد قامت الصلاة قال: فلما أصبحت أتيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال:«‏‏‏‏إنها لرؤيا حق» الحديث. أخرجه أحمد وأبو داود. وصححه الترمذي وابن خزيمة.وزاد أحمد في آخره،‏‏‏‏ قصة قول بلال في أذان الفجر: الصلاة خير من النوم. ولابن خزيمة عن أنس رضي الله عنه قال: من السنة إذا قال المؤذن في الفجر: حي على الفلاح قال: الصلاة خير من النوم.
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خواب میں مجھے ایک آدمی ملا جس نے مجھے کہا کہ کہو «الله أكبر الله أكبر» پھر اس نے ساری اذان کہی، چار مرتبہ «الله أكبر» کہا۔ بغیر ترجیع کے اور اقامت میں صرف ایک ایک مرتبہ کہا، مگر «قد قامت الصلاة» کو دو مرتبہ کہا۔ صبح جب میں بیدار ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اور اپنا خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یقیناً یہ خواب سچا ہے۔“
اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ احمد نے اس روایت کے آخر میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کا قصہ بھی مزید بیان کیا ہے اور ابن خزیمہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا سنت ہے کہ جب مؤذن صبح کی اذان میں «حي على الفلاح» کہے تو وہ کہے «الصلاة خير من النوم» ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 144]
«عَنْ» سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ» عبداللہ بن زید بن عبد ربہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «طَافَ بِي» میرے پاس چکر لگایا (خواب میں آیا) – «وَأَنَا نَائِمٌ» اس حال میں کہ میں سویا ہوا تھا – «رَجُلٌ» ایک آدمی نے – «فَقَالَ» پس اس نے کہا: – «تَقُولُ» تم کہو: – «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے – «فَذَكَرَ» پھر (انہوں نے) ذکر کیا – «الْأَذَانَ» اذان کو – «بِتَرْبِيعِ التَّكْبِيرِ» تکبیر کو چار بار کہنے کے ساتھ – «بِغَيْرِ تَرْجِيعٍ» ترجیع کے بغیر – «وَالْإِقَامَةَ» اور اقامت کو – «فُرَادَى» اکہری اکہری – «إِلَّا» سوائے – «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» قد قامت الصلاۃ (نماز کھڑی ہو گئی) کے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَلَمَّا أَصْبَحْتُ» پس جب میں نے صبح کی – «أَتَيْتُ» میں آیا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «إِنَّهَا» بے شک یہ – «لَرُؤْيَا حَقٍّ» یقیناً سچا خواب ہے – «الْحَدِيثَ» (پوری) حدیث۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ نے۔ – «وَزَادَ» اور زیادہ کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «فِي آخِرِهِ» اس کے آخر میں – «قِصَّةَ» واقعہ – «قَوْلِ بِلَالٍ» بلال کے کہنے کا – «فِي أَذَانِ الْفَجْرِ» فجر کی اذان میں: – «الصَّلَاةُ» نماز – «خَيْرٌ» بہتر ہے – «مِنَ النَّوْمِ» نیند سے۔ – «وَلِابْنِ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ کی روایت ہے – «عَنْ أَنَسٍ» انس سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مِنَ السُّنَّةِ» سنت میں سے ہے – «إِذَا قَالَ» کہ جب کہے – «الْمُؤَذِّنُ» مؤذن – «فِي الْفَجْرِ» فجر میں – «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» آؤ کامیابی کی طرف – «قَالَ» (تو) کہے: – «الصَّلَاةُ» نماز – «خَيْرٌ» بہتر ہے – «مِنَ النَّوْمِ» نیند سے۔
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سویا ہوا تھا کہ (خواب میں) ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہا: تم کہو: اللہ اکبر، اللہ اکبر، پھر انہوں نے پوری اذان ذکر کی جس میں تکبیر چار مرتبہ ہے اور ترجیع نہیں ہے، اور اقامت اکہری ذکر کی سوائے ”قد قامت الصلاۃ“ کے (کہ وہ دو بار ہے)۔ انہوں نے کہا: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے فرمایا: ”یقیناً یہ سچا خواب ہے۔“ (آخر تک پوری) حدیث۔ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور احمد نے اس کے آخر میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے فجر کی اذان میں ”الصلاۃ خیر من النوم“ (نماز نیند سے بہتر ہے) کہنے کا واقعہ زیادہ بیان کیا ہے۔ اور ابن خزیمہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سنت یہ ہے کہ جب مؤذن فجر (کی اذان) میں ”حی علی الفلاح“ کہے تو (اس کے بعد) ”الصلاۃ خیر من النوم“ کہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب كيف الأذان، حديث:499، وأحمد:4 /43، والترمذيٰ، الصلاة، حديث:189، وابن خزيمة: 1 /198، بالأسانيد، وحديث بلال أخرجه أحمد:4 /43 وهو حديث حسن، ابن إسحاق والزهري عنعنا، وللحديث شواهد صحيحة، وحديث أنس أخرجه ابن خزيمة:1 /202، حديث:386.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
وعن أبي محذورة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم علمه الأذان فذكر فيه الترجيع. أخرجه مسلم. ولكن ذكر التكبير في أوله مرتين فقط. ورواه الخمسة فذكروه مربعا.
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اذان سکھائی۔ اس میں انہوں نے ترجیع کا ذکر کیا ہے۔ مسلم نے روایت کیا ہے لیکن اس میں پہلی دفعہ «الله أكبر» کو صرف دو مرتبہ کہنے کا ذکر ہے۔ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کو پانچوں نے روایت کیا ہے اور انہوں نے «الله أكبر» کو پہلی دفعہ چار مرتبہ کہنے کا ذکر کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 145]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي مَحْذُورَةَ» ابو محذورہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَّمَهُ» نے انہیں سکھائی – «الْأَذَانَ» اذان – «فَذَكَرَ» پس (انہوں نے) ذکر کیا – «فِيهِ» اس میں – «التَّرْجِيعَ» ترجیع کو۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «وَلَكِنْ» لیکن – «ذَكَرَ» (انہوں نے) ذکر کیا – «التَّكْبِيرَ» تکبیر کو – «فِي أَوَّلِهِ» اس کے شروع میں – «مَرَّتَيْنِ» دو مرتبہ – «فَقَطْ» صرف۔ – «وَرَوَاهُ» اور اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «فَذَكَرُوهُ» تو انہوں نے اسے ذکر کیا – «مُرَبَّعًا» چار بار۔
اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان سکھائی اور انہوں نے اس میں ترجیع کا ذکر کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، لیکن (مسلم کی روایت میں) اذان کے شروع میں تکبیر صرف دو مرتبہ ذکر کی ہے۔ اور اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور انہوں نے (تکبیر) چار مرتبہ ذکر کی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب صفة الأذان، حديث:379، وأبوداود، الصلاة، حديث:500، 505، والترمذي، الصلاة، حديث:191، والسنائي، الصلاة، حديث:630، وابن ماجه، الصلاة، حديث:708، وأحمد:3 /409.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
وعن أنس رضي الله عنه قال: أمر بلال: أن يشفع الأذان شفعا ويوتر الإقامة إلا الإقامة يعني: إلا قد قامت الصلاة. متفق عليه،‏‏‏‏ ولم يذكر مسلم الاستثناء. وللنسائي: أمر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بلالا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے کلمات دو، دو مرتبہ اور تکبیر «قد قامت الصلاة» کے علاوہ باقی جملہ کلمات کو ایک، ایک مرتبہ کہنے کا حکم دیا گیا (بخاری و مسلم)
البتہ مسلم نے «قد قامت الصلاة» کے استثناء کا ذکر نہیں کیا اور نسائی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 146]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أُمِرَ» حکم دیا گیا – «بِلَالٌ» بلال کو – «أَنْ يَشْفَعَ» کہ وہ جفت (دوہرا) کہیں – «الْأَذَانَ» اذان کو – «شَفْعًا» دوہرا دوہرا – «وَيُوتِرَ» اور طاق (اکہری) کہیں – «الْإِقَامَةَ» اقامت کو – «إِلَّا الْإِقَامَةَ» سوائے اقامت (کے کلمے) کے – «يَعْنِي» یعنی – «إِلَّا» سوائے – «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» قد قامت الصلاۃ کے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَلَمْ يَذْكُرْ» اور ذکر نہیں کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «الِاسْتِثْنَاءَ» استثناء کو۔ – «وَلِلنَّسَائِيِّ» اور نسائی کی روایت میں ہے: – «أَمَرَ» حکم دیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِلَالًا» بلال کو۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں، سوائے اقامت کے، یعنی سوائے ”قد قامت الصلاۃ“ کے (کہ وہ دو بار کہیں)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور مسلم نے استثناء (سوائے قد قامت الصلاۃ) کا ذکر نہیں کیا۔ اور نسائی کی روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو حکم دیا۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب الأذان مثني مثني، حديث:605، ومسلم، الصلاة، با الأمر بشفع الأذان وإيتار الإقامة...، حديث:378، والنسائي، الأذان، حديث:628 وسنده صحيح.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
وعن أبي جحيفة رضي الله عنه قال: رأيت بلالا يؤذن وأتتبع فاه ههنا وههنا وإصبعاه في أذنيه. رواه أحمد والترمذي وصححه. ولابن ماجه: وجعل إصبعيه في أذنيه. ولأبي داود: لوى عنقه لما بلغ حي على الصلاة يمينا وشمالا ولم يستدر. وأصله في الصحيحين.
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا کہ وہ اپنا چہرہ، ادھر ادھر پھیرتے تھے۔ اس وقت ان کی دونوں انگلیاں (انگشت ہائے شہادت) ان کے کانوں میں تھیں۔
احمد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کر لیں اور ابوداؤد میں ہے کہ جب «حي على الصلاة» کہتے تو اپنے دائیں بائیں ذرا رخ موڑ لیتے بالکل گھومتے نہیں تھے۔ اس کی اصل صحیحین میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 147]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي جُحَيْفَةَ» ابو جحیفہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا – «بِلَالًا» بلال کو – «يُؤَذِّنُ» اذان دیتے ہوئے – «وَأَتَتَبَّعُ» اور میں پیچھا کر رہا تھا (دیکھ رہا تھا) – «فَاهُ» ان کے منہ کا – «هَاهُنَا وَهَاهُنَا» اِدھر اور اُدھر – «وَإِصْبَعَاهُ» اور ان کی دونوں انگلیاں – «فِي أُذُنَيْهِ» ان کے دونوں کانوں میں تھیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور (ترمذی نے) اسے صحیح کہا۔ – «وَلِابْنِ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے: – «وَجَعَلَ» اور (انہوں نے) رکھیں – «إِصْبَعَيْهِ» اپنی دونوں انگلیاں – «فِي أُذُنَيْهِ» اپنے دونوں کانوں میں۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے: – «لَوَى» (انہوں نے) موڑی – «عُنُقَهُ» اپنی گردن – «لَمَّا بَلَغَ» جب پہنچے – «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» حی علی الصلاۃ (آؤ نماز کی طرف) پر – «يَمِينًا» دائیں – «وَشِمَالًا» اور بائیں – «وَلَمْ يَسْتَدِرْ» اور (پورے) نہیں گھومے۔ – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الصَّحِيحَيْنِ» صحیحین میں ہے۔
اور سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا، میں ان کے منہ کو اِدھر اُدھر (پھرتے ہوئے) دیکھ رہا تھا اور ان کی دونوں انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے: اور انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں۔ اور ابو داود کی روایت میں ہے: جب وہ ”حی علی الصلاۃ“ پر پہنچے تو انہوں نے اپنی گردن دائیں اور بائیں موڑی اور (پورے جسم سے) نہیں گھومے۔ اور اس کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ماجاء في إدخال الإصبع في الأذن عند الأذان، حديث:197، وأحمد:4 /308، 309، وأصله في الصحيحين، البخاري، الأذان، حديث:634، ومسلم، الصلاة، حديث:503، وابن ماجه، الصلاة، حديث:711، وأبوداود، الصلاة، حديث:520.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
وعن أبي محذورة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أعجبه صوته فعلمه الأذان. رواه ابن خزيمة.
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آواز بہت پسند آئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو) اذان کی تعلیم خود دی (اذان سکھائی)۔ (ابن خزیمہ) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 148]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي مَحْذُورَةَ» ابو محذورہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَعْجَبَهُ» کو پسند آئی – «صَوْتُهُ» ان کی آواز – «فَعَلَّمَهُ» تو آپ نے انہیں سکھائی – «الْأَذَانَ» اذان۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی آواز پسند آئی تو آپ نے انہیں اذان سکھائی۔ اسے ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة: 1 /195، حديث:377.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
وعن جابر بن سمرة قال: صليت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم العيدين غير مرة ولا مرتين بغير أذان ولا إقامة. رواه مسلم. ونحوه في المتفق عليه عن ابن عباس رضي الله عنهما وغيره.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک، دو مرتبہ نہیں متعدد مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عیدین پڑھی ہے۔ اس کیلئے نہ اذان کہی جاتی تھی اور نہ ہی اقامت۔
اس روایت کو مسلم نے روایت کیا ہے اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 149]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ» جابر بن سمرہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّيْتُ» میں نے نماز پڑھی – «مَعَ النَّبِيِّ» نبی کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْعِيدَيْنِ» دونوں عیدوں کی – «غَيْرَ مَرَّةٍ» ایک بار نہیں – «وَلَا مَرَّتَيْنِ» اور نہ دو بار (بلکہ کئی بار) – «بِغَيْرِ أَذَانٍ» اذان کے بغیر – «وَلَا إِقَامَةٍ» اور نہ اقامت کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَنَحْوُهُ» اور اسی جیسی (روایت) – «فِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ» متفق علیہ (بخاری و مسلم) میں ہے – «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «وَغَيْرِهِ» اور ان کے علاوہ سے۔
اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں (بلکہ کئی بار) دونوں عیدوں کی نماز اذان اور اقامت کے بغیر پڑھی۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح کی روایت متفق علیہ (بخاری و مسلم) میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر (صحابہ) سے ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، صلاة العيدين، حديث:887، وحديث ابن عباس أخرجه مسلم، صلاة العيدين حديث:886، والبخاري، العيدين، حديث: 960.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
وعن أبي قتادة رضي الله عنه في الحديث الطويل في نومهم عن الصلاة ثم أذن بلال فصلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم كما كان يصنع كل يوم. رواه مسلم. وله عن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أتى المزدلفة،‏‏‏‏ فصلى بها المغرب والعشاء بأذان واحد وإقامتين. وله عن ابن عمر رضي الله عنهما: جمع النبي صلى الله عليه وآله وسلم بين المغرب والعشاء بإقامة واحدة. وزاد أبو داود: لكل صلاة.وفي رواية له: ولم يناد في واحدة منهما.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے (ایک لمبی حدیث جس میں دوران سفر غلبہ نیند اور تھکاوٹ سفر کی وجہ سے سو جانے کا ذکر ہے) مروی ہے، جب نیند سے بیداری ہوئی تو پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح روزانہ پڑھتے تھے۔ (مسلم) اور مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں پہنچے تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں سے پڑھی اور مسلم ہی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء دونوں نمازیں جمع کر کے ایک ہی اقامت کے ساتھ ادا فرمائیں اور ابوداؤد نے اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ ہر نماز کیلئے تکبیر کہی گئی اور اسی کی ایک روایت میں منقول ہے کہ ان دونوں نمازوں میں سے کسی کے لئے بھی اذان نہیں کہی گئی۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 150]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي قَتَادَةَ» ابو قتادہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ» لمبی حدیث میں – «فِي نَوْمِهِمْ» ان کے سو جانے کے بارے میں – «عَنِ الصَّلَاةِ» نماز سے – «ثُمَّ» پھر – «أَذَّنَ» اذان دی – «بِلَالٌ» بلال نے – «فَصَلَّى» تو نماز پڑھی – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَمَا» جیسے – «كَانَ يَصْنَعُ» آپ کیا کرتے تھے – «كُلَّ يَوْمٍ» ہر دن۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلَهُ» اور اسی (مسلم) کی روایت ہے – «عَنْ جَابِرٍ» جابر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَتَى» آئے – «الْمُزْدَلِفَةَ» مزدلفہ – «فَصَلَّى بِهَا» تو وہاں پڑھی – «الْمَغْرِبَ» مغرب – «وَالْعِشَاءَ» اور عشاء – «بِأَذَانٍ وَاحِدٍ» ایک اذان کے ساتھ – «وَإِقَامَتَيْنِ» اور دو اقامتوں کے ساتھ۔ – «وَلَهُ» اور اسی کی روایت ہے – «عَنِ ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو: – «جَمَعَ» جمع کیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بَيْنَ الْمَغْرِبِ» مغرب کے درمیان – «وَالْعِشَاءِ» اور عشاء کے – «بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ» ایک اقامت کے ساتھ۔ – «وَزَادَ» اور زیادہ کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے: – «لِكُلِّ صَلَاةٍ» ہر نماز کے لیے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ» اور ان کی ایک روایت میں ہے: – «وَلَمْ يُنَادِ» اور اذان نہیں دی – «فِي وَاحِدَةٍ» کسی ایک میں (بھی) – «مِنْهُمَا» ان دونوں میں سے۔
اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے ان (صحابہ) کے نماز کے وقت سو جانے کے بارے میں لمبی حدیث میں روایت ہے کہ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھائی جیسے آپ ہر روز کیا کرتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے تو وہاں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھیں۔ اور مسلم ہی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو ایک اقامت کے ساتھ جمع کیا۔ اور ابو داود نے یہ اضافہ کیا ہے: ”ہر نماز کے لیے (ایک اقامت)۔“ اور ان کی ایک روایت میں ہے: ”اور ان دونوں میں سے کسی کے لیے بھی اذان نہیں دی۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها، حديث:681 وحديث جابرأخرجه مسلم، الحج، حديث:1218 وحديث ابن عمر أخرجه مسلم، الحج، حديث: 1288، وأبوداود، المناسك، حديث:1927-1930.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
وعن ابن عمر وعائشة رضي الله عنهم قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن بلالا يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن أم مكتوم» ‏‏‏‏ وكان رجلا أعمى لا ينادي حتى يقال له: أصبحت أصبحت. متفق عليه وفي آخره إدراج.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا ”بلال (رضی اللہ عنہ) رات کو اذان کہتا ہے تم لوگ ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کی اذان تک کھا پی لیا کرو۔ “ ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) نابینا آدمی تھے جب تک لوگ انہیں یہ نہ کہتے کہ (صبح ہو گئی ‘ صبح ہو گئی) وہ اذان نہ کہتے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 151]
«وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ» اور ابن عمر – «وَعَائِشَةَ» اور عائشہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» اللہ ان سب سے راضی ہو – «قَالَا» ان دونوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ بِلَالًا» بے شک بلال – «يُؤَذِّنُ» اذان دیتے ہیں – «بِلَيْلٍ» رات کو – «فَكُلُوا» پس تم کھاؤ – «وَاشْرَبُوا» اور پیو – «حَتَّى يُنَادِيَ» یہاں تک کہ اذان دیں – «ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» ابن ام مکتوم – «وَكَانَ» اور وہ تھے – «رَجُلًا» ایک آدمی – «أَعْمَى» نابینا – «لَا يُنَادِي» (جو) اذان نہیں دیتے تھے – «حَتَّى يُقَالَ لَهُ» یہاں تک کہ ان سے کہا جاتا: – «أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ» تم نے صبح کر دی، تم نے صبح کر دی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَفِي آخِرِهِ» اور اس کے آخر میں – «إِدْرَاجٌ» ادراج (راوی کا اضافہ) ہے۔
اور سیدنا ابن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بلال رات کو (ہی) اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔“ اور وہ نابینا آدمی تھے، وہ اذان نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ ان سے کہا جاتا: صبح ہو گئی، صبح ہو گئی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور اس کے آخر میں ادراج (راوی کا اپنا کلام شامل) ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، با أذان الأعمي إذا كان له من يُخْبِرُهُ، حديث:617، ومسلم الصيام، باب بيان أن الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر...، حديث:1092* وفي آخره إدراج، يعني كلام بعض الرواة أدرج في الحديث وليس من كلام النبي صلي الله عليه وسلم وهو قوله:"كان رجلاً أعمي...، فإنه من كلام الزهري أو ابن عمر رضي الله عنهما.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن بلالا أذن قبل الفجر فأمره النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن يرجع فينادي:«‏‏‏‏ألا إن العبد نام» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وضعفه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک روز) بلال رضی اللہ عنہ نے طلوع فجر سے پہلے ہی اذان کہہ دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں دوبارہ اذان کہنے کا حکم دیا (تو بلال رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہ کر منادی کی) ”خبردار! سنو بندہ کو نیند آ گئی تھی۔“ ابوداؤد نے اسے روایت کیا اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 152]
«وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ» اور ابن عمر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ بِلَالًا» کہ بے شک بلال نے – «أَذَّنَ» اذان دی – «قَبْلَ الْفَجْرِ» فجر سے پہلے – «فَأَمَرَهُ» تو انہیں حکم دیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنْ يَرْجِعَ» کہ وہ لوٹ جائیں – «فَيُنَادِيَ» پس اعلان کریں: – «أَلَا» خبردار! – «إِنَّ الْعَبْدَ» بے شک بندہ – «نَامَ» سو گیا تھا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَضَعَّفَهُ» اور اسے ضعیف کہا۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے فجر سے پہلے اذان دے دی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ لوٹ کر یہ اعلان کریں: ”خبردار! بندہ سو گیا تھا (یعنی اسے وقت کا اندازہ نہ ہوا)۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في الأذان قبل دخول الوقت، حديث:532* حماد بن سلمة أخطأ في رفعه كما اتفق أئمة الحديث كأحمد والبخاري وأبي داود والترمذي وغيرهم، وللحديث شاهد ضعيف عند البهقي:1 /383.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 153
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول المؤذن» .‏‏‏‏ متفق عليه. وللبخاري عن معاوية رضي الله عنه مثله. ولمسلم عن عمر رضي الله عنه في فضل القول كما يقول المؤذن كلمة كلمة سوى الحيعلتين فيقول:" لا حول ولا قوة إلا بالله".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم اذان سنو تو تم بھی اسی طرح کہتے جاؤ جس طرح مؤذن کہہ رہا ہے۔ “ (بخاری و مسلم)
بخاری میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ اور مسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے جو مؤذن کے جواب میں اسی طرح ایک ایک کلمہ کہنے کی فضیلت کے بارے میں ہے بجز «حی علی الصلاة» اور «حی علی الفلاح» کے کہ ان کلمات کی جگہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 153]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا سَمِعْتُمُ» جب تم سنو – «النِّدَاءَ» اذان – «فَقُولُوا» تو کہو – «مِثْلَ مَا» اسی کی مثل جو – «يَقُولُ» کہتا ہے – «الْمُؤَذِّنُ» مؤذن۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی روایت ہے – «عَنْ مُعَاوِيَةَ» معاویہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مِثْلُهُ» اسی کی مثل۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت ہے – «عَنْ عُمَرَ» عمر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي فَضْلِ» فضیلت کے بارے میں – «الْقَوْلِ» کہنے کی – «كَمَا يَقُولُ» جیسے کہتا ہے – «الْمُؤَذِّنُ» مؤذن – «كَلِمَةً كَلِمَةً» ایک ایک کلمہ – «سِوَى» سوائے – «الْحَيْعَلَتَيْنِ» دونوں حیعلوں (حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح) کے – «فَيَقُولُ» تو (ان پر) کہے: – «لَا حَوْلَ» نہیں ہے (گناہ سے بچنے کی) طاقت – «وَلَا قُوَّةَ» اور نہ (نیکی کی) قوت – «إِلَّا بِاللَّهِ» مگر اللہ کی توفیق سے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہو جیسے مؤذن کہتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے۔ اور مسلم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مؤذن کے کلمات کو ایک ایک کلمہ کر کے دہرانے کی فضیلت کے بارے میں روایت ہے، سوائے دونوں ”حی علی“ کے کہ ان پر (سننے والا) کہے: ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ“ (اللہ کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت)۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب ما يقول إذا سمع المنادي، حديث: 611، ومسلم، الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه، حديث: 383، وحديث معاوية أخرجه البخاري، الأذان، حديث:612، وحديث عمر أخرجه مسلم، الصلاة، حديث:385.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں