صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ} إِلَى قَوْلِهِ: {غَفُورٌ رَحِيمٌ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ التوبہ میں) کہ ”یاد کرو تم کو اپنی کثرت تعداد پر گھمنڈ ہو گیا تھا پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہونے لگی، پھر تم پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے، اس کے بعد اللہ نے تم پر اپنی طرف سے تسلی نازل کی“ «غفور رحيم» تک۔
حدیث نمبر: 4314
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ:" رَأَيْتُ بِيَدِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ضَرْبَةً، قَالَ: ضُرِبْتُهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ"، قُلْتُ:" شَهِدْتَ حُنَيْنًا؟" قَالَ:" قَبْلَ ذَلِكَ".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں زخم کا نشان دیکھا پھر انہوں نے بتلایا کہ یہ زخم اس وقت آیا تھا جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔ میں نے کہا، آپ حنین میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی میں کئی غزوات میں شریک ہو چکا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4314]
اسماعیل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر تلوار کا زخم دیکھا۔“ انہوں نے بتایا کہ ”غزوہ حنین میں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ یہ زخم آیا تھا۔“ میں نے پوچھا: ”آپ غزوہ حنین میں موجود تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں اس سے پہلے غزوات میں بھی حاضر ہوتا رہا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4314]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَارَةَ، أَتَوَلَّيْتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ، وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، يَقُولُ:" أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کے یہاں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو عمارہ! کیا تم نے حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے کہا، میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ البتہ جو لوگ قوم میں جلد باز تھے، انہوں نے اپنی جلد بازی کا ثبوت دیا تھا، پس قبیلہ ہوازن والوں نے ان پر تیر برسائے۔ ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب، أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں بالکل جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4315]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان کے پاس ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا: ”اے ابو عمارہ! کیا تم نے حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے، البتہ قوم میں جو جلد باز تھے انہوں نے اپنی جلد بازی کا ثبوت دیا تو ہوازن کے تیر اندازوں نے انہیں اپنے تیروں سے چھلنی کر دیا۔ اس دوران میں حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» ”میں نبی برحق ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4315]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4316
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قِيلَ لِلْبَرَاءِ، وَأَنَا أَسْمَعُ: أَوَلَّيْتُمْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ فَقَالَ: أَمَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا كَانُوا رُمَاةً، فَقَالَ:" أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ تم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے کہا جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے تو آپ نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ ہوا یہ تھا کہ ہوازن والے بڑے تیرانداز تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا تھا «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4316]
حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا جبکہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: ”(ابو عمارہ!) کیا تم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین کے دن پیٹھ پھیر لی تھی؟ (بھاگ گئے تھے؟)“ انہوں نے کہا: ”جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ دراصل قبیلہ ہوازن کے لوگ سخت تیر انداز تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» ”میں نبی ہوں، جس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4316]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4317
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعَ الْبَرَاءَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ:" أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟" فَقَالَ:" لَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ، كَانَتْ هَوَازِنُ رُمَاةً، وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمُ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ، فَاسْتُقْبِلْنَا بِالسِّهَامِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِزِمَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ"، قَالَ إِسْرَائِيلُ وَزُهَيْرٌ: نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَغْلَتِهِ.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ حنین میں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے؟ انہوں نے کہا: لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیرانداز تھے، جب ان پر ہم نے حملہ کیا تو وہ پسپا ہو گئے پھر ہم لوگ مال غنیمت میں لگ گئے۔ آخر ہمیں ان کے تیروں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے خود دیکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب» ”میں نبی ہوں، اس میں جھوٹ نہیں۔“ اسرائیل اور زہیر نے بیان کیا کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4317]
حضرت براء رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ان سے قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے پوچھا: ”کیا تم لوگ غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ دراصل قبیلہ ہوازن کے لوگ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ پسپا ہو گئے۔ ہم لوگ مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے۔ آخر کار ہمیں ان کے تیروں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے بچشمِ خود دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ» ”میں نبی ہوں اس میں ذرا بھی جھوٹ نہیں۔““ اسرائیل اور زہیر راوی نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر پڑے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4318
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ. ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ، وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ: إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ"، وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ"، فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ"، فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب نے) بیان کیا کہ محمد بن شہاب نے کہا کہ ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت دینے کھڑے ہوئے، انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے (قبیلے کے قیدی) انہیں واپس دے دئیے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جیسا کہ تم لوگ دیکھ رہے ہو، میرے ساتھ کتنے اور لوگ بھی ہیں اور دیکھو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ اس لیے تم لوگ ایک ہی چیز پسند کر لو یا تو اپنے قیدی لے لو یا مال لے لو۔ میں نے تم ہی لوگوں کے خیال سے (قیدیوں کی تقسیم میں) تاخیر کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہو کر تقریباً دس دن ان کا انتظار کیا تھا۔ آخر جب ان پر واضح ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا کہ پھر ہم اپنے (قبیلے کے) قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! تمہارے بھائی (قبیلہ ہوازن کے لوگ) توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں، مسلمان ہو کر اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں۔ اس لیے جو شخص (بلا کسی دنیاوی صلہ کے) انہیں اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے یہ بہتر ہے اور جو لوگ اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہتے ہوں، ان کا حق قائم رہے گا۔ وہ یوں کر لیں کہ اس کے بعد جو سب سے پہلے غنیمت اللہ تعالیٰ ہمیں عنایت فرمائے گا اس میں سے ہم انہیں اس کے بدلہ دے دیں گے تو وہ ان کے قیدی واپس کر دیں۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوشی سے (بلا کسی بدلہ کے) واپس کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح ہمیں اس کا علم نہیں ہو گا کہ کس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے اور کس نے نہیں، اس لیے سب لوگ جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں۔ چنانچہ سب واپس آ گئے اور ان کے چودھریوں نے ان سے گفتگو کی پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ سب نے خوشی اور فراخ دلی کے ساتھ اجازت دے دی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا یہی ہے وہ حدیث جو مجھے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق پہنچی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4318]
حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی واپس کر دیے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میرے ساتھ میرے صحابہ کرام بھی ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور دیکھو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ تم دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کر لو: قیدی لے لو یا مال واپس لے جاؤ۔ میں نے تمہارا انتظار کیا تھا۔“ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپسی پر تقریباً دس دن ان کا انتظار کیا تھا۔ آخر جب ان پر یہ بات واضح ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، مسلمانوں کو خطاب کیا۔ آپ نے پہلے اللہ کے شایان شان حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! تمہارے بھائی تائب (مسلمان) ہو کر ہمارے پاس آئے ہیں، میری رائے یہ ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کر دوں، لہذا تم میں سے جو کوئی اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے، یہ بہتر ہے۔ اور جو لوگ اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہتے ہوں ان کا حق قائم رہے گا۔ اس کی صورت یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ہمیں جو غنیمت عطا کرے گا اس میں سے ہم انہیں اس کے بدلے میں دے دیں گے۔“ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اللہ کے رسول! ہم بخوشی قیدی آزاد کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے بخوشی اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی۔ تم سب اپنے خیموں میں واپس چلے جاؤ حتی کہ تمہارے نمائندہ حضرات تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں۔“ چنانچہ تمام صحابہ چلے گئے۔ پھر ان کے نمائندوں نے ان سے بات کی اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے آپ سے عرض کی کہ وہ خوش ہیں اور فراخدلی سے اجازت دیتے ہیں۔ (امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا:) ”یہ واقعہ ہے جو قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق مجھے پہنچا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4318]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4319
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ. ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ، وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ: إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ"، وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ"، فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ"، فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب نے) بیان کیا کہ محمد بن شہاب نے کہا کہ ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت دینے کھڑے ہوئے، انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے (قبیلے کے قیدی) انہیں واپس دے دئیے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جیسا کہ تم لوگ دیکھ رہے ہو، میرے ساتھ کتنے اور لوگ بھی ہیں اور دیکھو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ اس لیے تم لوگ ایک ہی چیز پسند کر لو یا تو اپنے قیدی لے لو یا مال لے لو۔ میں نے تم ہی لوگوں کے خیال سے (قیدیوں کی تقسیم میں) تاخیر کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہو کر تقریباً دس دن ان کا انتظار کیا تھا۔ آخر جب ان پر واضح ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا کہ پھر ہم اپنے (قبیلے کے) قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! تمہارے بھائی (قبیلہ ہوازن کے لوگ) توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں، مسلمان ہو کر اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں۔ اس لیے جو شخص (بلا کسی دنیاوی صلہ کے) انہیں اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے یہ بہتر ہے اور جو لوگ اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہتے ہوں، ان کا حق قائم رہے گا۔ وہ یوں کر لیں کہ اس کے بعد جو سب سے پہلے غنیمت اللہ تعالیٰ ہمیں عنایت فرمائے گا اس میں سے ہم انہیں اس کے بدلہ دے دیں گے تو وہ ان کے قیدی واپس کر دیں۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوشی سے (بلا کسی بدلہ کے) واپس کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح ہمیں اس کا علم نہیں ہو گا کہ کس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے اور کس نے نہیں، اس لیے سب لوگ جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں۔ چنانچہ سب واپس آ گئے اور ان کے چودھریوں نے ان سے گفتگو کی پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ سب نے خوشی اور فراخ دلی کے ساتھ اجازت دے دی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا یہی ہے وہ حدیث جو مجھے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق پہنچی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4319]
حضرت مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی واپس کر دیے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میرے ساتھ میرے صحابہ کرام بھی ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور دیکھو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ تم دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کر لو: قیدی لے لو یا مال واپس لے جاؤ۔ میں نے تمہارا انتظار کیا تھا۔“ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپسی پر تقریباً دس دن ان کا انتظار کیا تھا۔ آخر جب ان پر یہ بات واضح ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، مسلمانوں کو خطاب کیا۔ آپ نے پہلے اللہ کے شایانِ شان حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ تمہارے بھائی تائب (مسلمان) ہو کر ہمارے پاس آئے ہیں، میری رائے یہ ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کر دوں، لہٰذا تم میں سے جو کوئی اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے، یہ بہتر ہے۔ اور جو لوگ اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہتے ہوں ان کا حق قائم رہے گا۔ اس کی صورت یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ہمیں جو غنیمت عطا کرے گا اس میں سے ہم انہیں اس کے بدلے میں دے دیں گے۔“ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اللہ کے رسول! ہم بخوشی قیدی آزاد کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے بخوشی اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی۔ تم سب اپنے خیموں میں واپس چلے جاؤ حتیٰ کہ تمہارے نمائندہ حضرات تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں۔“ چنانچہ تمام صحابہ چلے گئے۔ پھر ان کے نمائندوں نے ان سے بات کی اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے آپ سے عرض کی کہ وہ خوش ہیں اور فراخ دلی سے اجازت دیتے ہیں۔ (امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا:) ”یہ واقعہ ہے جو قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق مجھے پہنچا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4319]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4320
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ. ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا قَفَلْنَا مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافٍ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَفَائِهِ"، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم غزوہ حنین سے واپس ہو رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں اعتکاف کی مانی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے پوری کرنے کا حکم دیا اور بعض (احمد بن عبدہ ضبی) نے حماد سے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے۔ اور اس روایت کو جریر بن حازم اور حماد بن سلمہ نے ایوب سے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4320]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب ہم غزوہ حنین سے واپس آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے اعتکاف کے متعلق زمانہ جاہلیت میں مانی تھی۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا۔ اس روایت کو کچھ حضرات نے حماد سے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے۔ اور اس روایت کو جریر بن حازم اور حماد بن سلمہ نے بھی ایوب سے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4320]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4321
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ، فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ، قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، فَقُمْتُ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟" فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: صَدَقَ، وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ، فَأَعْطِهِ"، فَأَعْطَانِيهِ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، انہیں عمرو بن کثیر بن افلح نے، انہیں قتادہ کے مولیٰ ابو محمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے لیے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب جنگ ہوئی تو مسلمان ذرا ڈگمگا گئے (یعنی آگے پیچھے ہو گئے)۔ میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان کے اوپر غالب ہو رہا ہے، میں نے پیچھے سے اس کی گردن پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ ڈالی۔ اب وہ مجھ پر پلٹ پڑا اور مجھے اتنی زور سے بھینچا کہ موت کی تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی، آخر وہ مر گیا اور مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، یہی اللہ عزوجل کا حکم ہے۔ پھر مسلمان پلٹے اور (جنگ ختم ہونے کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا ہو اور اس کے لیے کوئی گواہ بھی رکھتا ہو تو اس کا تمام سامان و ہتھیار اسے ہی ملے گا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ بیان کیا کہ پھر آپ نے دوبارہ یہی فرمایا۔ اس مرتبہ پھر میں نے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ اور پھر بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا فرمان دہرایا تو میں اس مرتبہ کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ فرمایا کیا بات ہے، اے ابوقتادہ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو ایک صاحب (اسود بن خزاعی اسلمی) نے کہا کہ یہ سچ کہتے ہیں اور ان کے مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں (کہ سامان مجھ سے نہ لیں) اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حق تمہیں ہرگز نہیں دے سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، تم سامان ابوقتادہ کو دے دو۔ انہوں نے سامان مجھے دے دیا۔ میں نے اس سامان سے قبیلہ سلمہ کے محلہ میں ایک باغ خریدا اسلام کے بعد یہ میرا پہلا مال تھا، جسے میں نے حاصل کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4321]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین کے سال روانہ ہوئے۔ جب ہماری کفار کے ساتھ جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہے۔ میں نے اس کے پیچھے سے ہو کر اس کے کندھے پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ دی۔ وہ میری طرف پلٹ آیا اور مجھے اتنے زور سے دبایا کہ میں نے اس کے دبانے سے موت کی سختی محسوس کی۔ پھر جب اسے موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ایسا اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔“ بہرحال لوگ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) لوٹ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر اعلان کیا: ”جس نے کسی کو قتل کیا ہے اور اس کے پاس گواہ ہے تو اس کو مقتول کا سازوسامان ملے گا۔“ میں نے کہا: میرے لیے کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کو دہرایا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا: میرے لیے کون گواہی دے گا؟ (لوگوں کی خاموشی دیکھ کر) میں پھر بیٹھ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی بات کو دہرایا تو میں کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو قتادہ! کیا ماجرا ہے؟“ میں نے آپ کو سارا واقعہ بتایا تو ایک شخص نے کہا: ”اللہ کے رسول! ابو قتادہ نے سچ کہا ہے۔ اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ آپ انہیں میری طرف سے خوش کر دیں، یعنی سامان میرے پاس ہی رہنے دیں۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو گا! تب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر دیا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتا ہے اور تجھے اس کا سامان دے دیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔ تم مقتول کا سامان اس کے حوالے کر دو۔“ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس نے مقتول کا سامان میرے حوالے کر دیا اور میں نے اس سامان کے عوض قبیلہ بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا۔ یہ پہلی جائیداد تھی جو میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4321]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4322
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَظَرْتُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَآخَرُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَخْتِلُهُ مِنْ وَرَائِهِ لِيَقْتُلَهُ، فَأَسْرَعْتُ إِلَى الَّذِي يَخْتِلُهُ، فَرَفَعَ يَدَهُ لِيَضْرِبَنِي وَأَضْرِبُ يَدَهُ فَقَطَعْتُهَا، ثُمَّ أَخَذَنِي فَضَمَّنِي ضَمًّا شَدِيدًا حَتَّى تَخَوَّفْتُ، ثُمَّ تَرَكَ فَتَحَلَّلَ وَدَفَعْتُهُ، ثُمَّ قَتَلْتُهُ، وَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ وَانْهَزَمْتُ مَعَهُمْ، فَإِذَا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ، ثُمَّ تَرَاجَعَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَقَامَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ، ثُمَّ بَدَا لِي فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَلَّا لَا يُعْطِهِ أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدَّاهُ إِلَيَّ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا، فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ.
اور لیث بن سعد نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا تھا کہ ان سے عمر بن کثیر بن افلح نے، ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابو محمد نے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے دن میں نے ایک مسلمان کو دیکھا کہ ایک مشرک سے لڑ رہا تھا اور ایک دوسرا مشرک پیچھے سے مسلمان کو قتل کرنے کی گھات میں تھا، پہلے تو میں اسی کی طرف بڑھا، اس نے اپنا ہاتھ مجھے مارنے کے لیے اٹھایا تو میں نے اس کے ہاتھ پر وار کر کے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ مجھ سے چمٹ گیا اور اتنی زور سے مجھے بھینچا کہ میں ڈر گیا۔ آخر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور ڈھیلا پڑ گیا۔ میں نے اسے دھکا دے کر قتل کر دیا اور مسلمان بھاگ نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ بھاگ پڑا۔ لوگوں میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نظر آئے تو میں نے ان سے پوچھا، کہ لوگ بھاگ کیوں رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے، پھر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس پر گواہ قائم کر دے گا کہ کسی مقتول کو اسی نے قتل کیا ہے تو اس کا سارا سامان اسے ملے گا۔ میں اپنے مقتول پر گواہ کے لیے اٹھا لیکن مجھے کوئی گواہ دکھائی نہیں دیا۔ آخر میں بیٹھ گیا پھر میرے سامنے ایک صورت آئی۔ میں نے اپنے معاملے کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ایک صاحب (اسود بن خزاعی اسلمی رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ ان کے مقتول کا ہتھیار میرے پاس ہے، آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے جنگ کرتا ہے، اس کا حق قریش کے ایک بزدل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں دے سکتے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان عطا فرمایا۔ میں نے اس سے ایک باغ خریدا اور یہ سب سے پہلا مال تھا جسے میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4322]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین کے سال روانہ ہوئے۔ جب ہماری کفار کے ساتھ جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہے۔ میں نے اس کے پیچھے سے ہو کر اس کے کندھے پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ دی۔ وہ میری طرف پلٹ آیا اور مجھے اتنے زور سے دبایا کہ میں نے اس کے دبانے سے موت کی سختی محسوس کی۔ پھر جب اسے موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ایسا اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔“ بہرحال لوگ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) لوٹ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر اعلان کیا: ”جس نے کسی کو قتل کیا ہے اور اس کے پاس گواہ ہے تو اس کو مقتول کا سازوسامان ملے گا۔“ میں نے کہا: ”میرے لیے کون گواہی دے گا؟“ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کو دہرایا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا: ”میرے لیے کون گواہی دے گا؟“ (لوگوں کی خاموشی دیکھ کر) میں پھر بیٹھ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی بات کو دہرایا تو میں کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو قتادہ! کیا ماجرا ہے؟“ میں نے آپ کو سارا واقعہ بتایا تو ایک شخص نے کہا: ”اللہ کے رسول! ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔ اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ آپ انہیں میری طرف سے خوش کر دیں، یعنی سامان میرے پاس ہی رہنے دیں۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو گا! تب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر دیا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتا ہے اور تجھے اس کا سامان دے دیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔ تم مقتول کا سامان اس کے حوالے کر دو۔“ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس نے مقتول کا سامان میرے حوالے کر دیا اور میں نے اس سامان کے عوض قبیلہ بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا۔ یہ پہلی جائیداد تھی جو میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4322]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة