بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب العدة والإحداد والا ستنبراء وغير ذلك
عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان
حدیث نمبر: 945
عن المسور بن مخرمة: أن سبيعة الأسلمية نفست بعد وفاة زوجها بليال فجاءت النبي صلى الله عليه وآله وسلم فاستأذنته أن تنكح فأذن لها فنكحت. رواه البخاري وأصله في الصحيحين. وفي لفظ:"أنها وضعت بعد وفاة زوجها بأربعين ليلة". وفي لفظ لمسلم قال الزهري: ولا أرى بأسا أن تزوج وهي في دمها غير أنه لا يقربها زوجها حتى تطهر.
سیدنا مسور بن مخرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے چند روز بعد بچہ جنا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نکاح کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح کی اجازت دے دی اور اس نے نکاح کر لیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی اصل بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے اپنے شوہر کی وفات کے چالیس روز بعد بچے کو جنم دیا۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 945]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الطلاق، باب: ﴿وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن﴾، حديث:5320، ومسلم، الطلاق، باب انقضاء عدة المتوفي عنها وغيرها بوضع الحمل، حديث:1485، وانظر، حديث:1484.»
حدیث نمبر: 946
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: أمرت بريرة أن تعتد بثلاث حيض. رواه ابن ماجه ورواته ثقات لكنه معلول.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزارے۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 946]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الطلاق، باب خيار الأمة إذا أعتقت، حديث:2077، الثوري عنعن.»
حدیث نمبر: 947
وعن الشعبي عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم في المطلقة ثلاثا: «ليس لها سكنى ولا نفقة» . رواه مسلم.
شعبی رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقہ ثلاثہ کے متعلق فرمایا ہے ”اس کے لیے نہ رہائش ہے نہ نان و نفقہ۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها، حديث:1480.»
حدیث نمبر: 948
وعن أم عطية رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا تحد امرأة على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا ولا تلبس ثوبا مصبوغا إلا ثوب عصب ولا تكتحل ولا تمس طيبا إلا إذا طهرت نبذة من قسط أو أظفار» . متفق عليه وهذا لفظ مسلم. ولأبي داود والنسائي من الزيادة: «ولا تختضب» وللنسائي: «ولا تمتشط»
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، سوائے خاوند کے۔ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے۔ سوگ کے زمانے میں رنگین لباس نہ پہنے، لیکن رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے۔ سرمہ نہ لگائے، خوشبو استعمال نہ کرے۔ مگر جب ایام حیض سے پاک ہو تو تھوڑی سی عود ہندی (ایک خوشبودار لکڑی) یا اظفار (مشک) استعمال کر سکتی ہے۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور ابوداؤد اور نسائی میں اتنا اضافہ ہے کہ مہندی و خضاب نہ لگائے اور نسائی میں ہے کہ کنگھی بھی نہ کرے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الطلاق، باب القسط للحادة عند الطهر، حديث:5341، ومسلم، الطلاق، باب وجوب الإحداد في عدة الوفاة، حديث:938، بعد حديث:1491، وأبوداود، الطلاق، حديث:2302، والنسائي، الطلاق، حديث:3564.»
حدیث نمبر: 949
وعن أم سلمة رضي الله عنها قالت: جعلت على عيني صبرا بعد أن توفي أبو سلمة فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إنه يشب الوجه فلا تجعليه إلا بالليل وانزعيه بالنهار ولا تمتشطي بالطيب ولا بالحناء فإنه خضاب» . قلت: بأي شيء أمتشط؟ قال: «بالسدر» . رواه أبو داود والنسائي وإسناده حسن.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوسلمہ کی وفات کے بعد میں نے اپنی آنکھوں پر مصبر (ایک قسم کی دوائی) کا لیپ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مصبر چہرے کو صاف کرتا اور چمکاتا ہے۔ اسے صرف رات کے اوقات میں استعمال کر اور دن کو منہ سے اتار دیا کر۔ خوشبو اور مہندی والی کنگھی نہ کر۔ مہندی تو ایک قسم کا خضاب ہے۔“ میں نے عرض کیا۔ تو پھر کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں؟ فرمایا ”بیری کے پتوں کو پانی میں ڈال کر اس کے ساتھ۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطلاق باب فيما تجتنبه المعتدة في عدتها، حديث:2305، والنسائي، الطلاق، حديث:3567.* أم حكيم لا يعرف حالها (تقريب)، والمغيرة بن الضحاك مستور.»
حدیث نمبر: 950
وعنها رضي الله عنها أن امرأة قالت: يا رسول الله إن ابنتي مات عنها زوجها وقد اشتكت عينها أفنكحلها؟ قال: «لا» متفق عليه
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر وفات پا گیا ہے اور بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہو گئی ہے کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ فرمایا ”نہیں“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الطلاق، باب تحد المتوفي عنها أربعة أشهر وعشرًا، حديث:5336، ومسلم، الطلاق، باب وجوب الإحداد....، حديث:1488.»
حدیث نمبر: 951
وعن جابر رضي الله عنه قال: طلقت خالتي فأرادت أن تجد نخلها فزجرها رجل أن تخرج فأتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «بلى فجدي نخلك فإنك عسى أن تصدقي أو تفعلي معروفا» رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی اور اس نے دوران عدت اپنی کھجور کا پھل اتارنے کے ارادہ سے باہر جانا چاہا تو ایک آدمی نے ان کو ڈانٹا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں تم اپنے درختوں کا پھل توڑ سکتی ہو۔ عین ممکن ہے کہ تم صدقہ کرو یا اس ذریعہ سے کوئی دوسرا عمل خیر تمہارے ہاتھ سے انجام پا جائے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطلاق، باب جواز خروج المعتدة البائن...، حديث:1483.»
حدیث نمبر: 952
وعن فريعة بنت مالك أن زوجها خرج في طلب أعبد له فقتلوه. قالت: فسألت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن أرجع إلى أهلي فإن زوجي لم يترك لي مسكنا يملكه ولا نفقة فقال: «نعم» فلما كنت في الحجرة ناداني فقال: «امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب أجله» قالت: فاعتددت فيه أربعة أشهر وعشرا قالت: فقضى به بعد ذلك عثمان. أخرجه أحمد والأربعة وصححه الترمذي والذهلي وابن حبان والحاكم وغيرهم.
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس کا شوہر اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ فریعہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے میکے لوٹ جانے کے متعلق دریافت کیا کیونکہ میرے شوہر نے اپنی ملکیت میں کوئی گھر نہیں چھوڑا اور نہ ہی نفقہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! (تم اپنے میکے جا سکتی ہو)“ جب میں حجرے میں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی اور فرمایا ”تم اپنے پہلے مکان ہی میں اس وقت تک رہو جب تک کہ تمہاری عدت پوری نہ ہو جائے۔“ فریعہ کا بیان ہے کہ میں نے پھر عدت کی مدت چار ماہ دس دن اسی سابقہ مکان میں پوری کی۔ فرماتی ہیں کہ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اس کے بعد اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ اسے احمد اور چاروں نے بیان کیا ہے۔ ترمذی، ذھلی، ابن حبان اور حاکم وغیرہم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 952]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في المتوفي عنها تنتقل، حديث:2300، والترمذي، الطلاق واللعان، حديث:1204، والنسائي، الطلاق، حديث:3559، وابن ماجه، الطلاق، حديث:2031، وأحمد:6 /370، وابن حبان (الإحسان): 6 /248، حديث:4279، والحاكم:2 /208.»
حدیث نمبر: 953
وعن فاطمة بنت قيس قالت: قلت: يا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إن زوجي طلقني ثلاثا وأخاف أن يقتحم علي؟ فأمرها فتحولت. رواه مسلم
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی میرے پاس بے جا طور پر گھس نہ آئے اور ظلم کرے۔ تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت مرحمت فرما دی اور وہ وہاں سے منتقل ہو گئی۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 953]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها، حديث:1482.»
حدیث نمبر: 954
وعن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال:" لا تلبسوا علينا سنة نبينا عدة أم الولد إذا توفي عنها سيدها أربعة أشهر وعشر" رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه وصححه الحاكم وأعله الدارقطني بالانقطاع.
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہم پر خلط ملط نہ کرو کہ جب ام ولد کا سردار وفات پا جائے تو اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ اس روایت کو احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور دارقطنی نے اسے انقطاع سے معلول کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 954]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في عدة أم الولد، حديث:2308، وابن ماجه، الطلاق، حديث:2083، وأحمد:4 /203، والحاكم:2 /209 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي، والدارقطني:3 /309 وقال: "هو مرسل لأن قبيصة لم يسمع من عمرو" وتبعه البيهقي:7 /448.»