بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب حد الزاني
زانی کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 1044
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به ومن وجدتموه وقع على بهيمة فاقتلوه واقتلوا البهيمة» . رواه أحمد والأربعة ورجاله موثقون إلا أن فيه اختلافا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ” جس شخص کو تم پاؤ کہ وہ قوم لوط کے فعل کا مرتکب ہو تو فاعل اور مفہول دونوں کو قتل کر دو۔ اور جس کسی کو پاؤ کہ وہ جانوروں کے ساتھ بدفعلی کا مرتکب ہوا تو اس مرد اور جانور دونوں کو مار ڈالو۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ اس کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے۔ مگر اس میں اختلاف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحدود/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الحدود، باب فيمن عمل عمل قوم لوط، حديث:4462، والترمذي، الحدود، حديث:1456، وابن ماجه، الحدود، حديث:2561، والنسائي في الكبرٰي:4 /322، حديث:7340 مختصرًا، وأحمد:1 /269، 300.»
حدیث نمبر: 1045
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم ضرب وغرب وأن أبا بكر ضرب وغرب وأن عمر ضرب وغرب. رواه الترمذي ورجاله ثقات إلا أنه اختلف في وقفه ورفعه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زانی کو مارا بھی اور جلا وطن بھی کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مارا بھی اور جلا وطن بھی کیا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں مگر اس کے موقوف اور مرفوع ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحدود/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الحدود، باب ما جاء في النفي، حديث:1438، وقال: "غريب".»
حدیث نمبر: 1046
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم المخنثين من الرجال والمترجلات من النساء وقال: «أخرجوهم من بيوتكم» رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کا روپ دھاریں اور ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو مرد بنیں۔ نیز فرمایا کہ ” ان کو اپنے گھروں سے نکال دو۔ “ (گھروں میں داخل نہ ہونے دو)۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الحدود/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحدود، باب نفي أهل المعاصي والمخنثين، حديث:6834.»
حدیث نمبر: 1047
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ادفعوا الحدود ما وجدتم لها مدفعا» أخرجه ابن ماجه بإسناد ضعيف وأخرجه الترمذي والحاكم من حديث عائشة بلفظ: «ادرءوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم» وهو ضعيف أيضا ورواه البيهقي عن علي من قوله بلفظ: «ادرءوا الحدود بالشبهات» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حدود کو دفع کرو جہاں تک اس کے دفع کرنے کی گنجائش پاؤ۔“ اسے ابن ماجہ نے نکالا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے اور اس کو ترمذی اور حاکم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ بیان کیا ہے۔ جس کے الفاظ ہیں۔ ” مسلمانوں سے جہاں تک حدود کو ہٹا سکتے ہو ہٹاؤ۔“ یہ بھی ضعیف ہے اور بیہقی نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت کیا ہے اس کے الفاظ ہیں۔ ” شبہات کی وجہ سے حدود کو دفع کرو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الحدود/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الحدود، باب الستر علي المؤمن ودفع الحدود بالشبهات، حديث:2545.* فيه إبراهيم بن الفضل المخزومي وهو متروك (تقريب) وللحديث شواهد ضعيفة عند الترمذي، الحدود، حديث:1424 وغيره، وحديث عائشة: أخرجه الترمذي، الحدود، حديث:1424، والحاكم:4 /285، وسنده ضعيف، يزيد بن زياد الدمشقي متروك، وأثر علي: لم أجده في البيهقي موقوفًا عليه، ولكن أخرجه البيهقي عن علي مرفرعًا:8 /238، وسنده ضعيف أيضًا.»
حدیث نمبر: 1048
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «اجتنبوا هذه القاذورات التي نهى الله عنها فمن ألم بها فليستتر بستر الله وليتب إلى الله فإنه من يبد لنا صفحته نقم عليه كتاب الله» . رواه الحاكم وهو في الموطأ من مراسيل زيد بن أسلم.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ان گندے کاموں سے بچو جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور جو شخص ان میں مبتلا ہو جائے تو اسے اللہ کے ڈالے ہوئے پردہ میں چھپے رہنا چاہیئے اور اسے چاہیئے کہ اللہ کی جناب میں (پوشیدہ طور پر) توبہ کر لے کیونکہ جو شخص اپنی پیٹھ ہمارے سامنے ظاہر کرے گا ہم اس پر کتاب اللہ کو نافذ و قائم کر کے چھوڑیں گے۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ موطا میں زید بن اسلم سے مرسلاً مروی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحدود/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:4 /244، 383 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي، وملك في الموطأ:2 /825، وللحديث شواهد في التمهيد:(5 /224) وغيره.»