🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 530
أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ، نا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَزَا بَدْرًا قَالَتْ لَهُ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَكَ أُدَاوِي جَرْحَاكُمْ وَأُمَرِّضَ مَرْضَاكُمْ، لَعَلَّ أَنْ تُهْدَى لِي شَهَادَةٌ، قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ مَهَّدَ لَكِ شَهَادَةً) ) ، فَكَانَ يُسَمِّيهَا الشَّهِيدَةَ، وَكَانَ أَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا، فَكَانَ لَهَا مُؤَذِّنٌ، فَكَانَتْ تَؤُمُّ أَهْلَ دَارِهَا حَتَّى غَمَّتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا وَغُلَامٌ لَهَا، كَانَتْ قَدْ دَبَرَتْهُمَا فَقَتَلَاهَا فِي إِمَارَةِ عُمَرَ، فَقِيلَ إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ قُتِلَتْ قَتَلَهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا، فَقَامَ عُمَرُ فِي النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ غَمَّتْهَا جَارِيَتُهَا وَغُلَامُهَا حَتَّى قَتْلَاهَا، وَإِنَّهُمَا هَرَبَا، فَأَتَى بِهِمَا، فَصَلَبَهُمَا، فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: ( (انْطَلِقُوا بِنَا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ) ) .
سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: انہیں قرآن یاد تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت غزوہ بدر کے لیے جانے لگے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ جاؤں؟ میں آپ کے زخمیوں اور مریضوں کا علاج معالجہ اور تیمارداری کروں گی، ہو سکتا ہے کہ مجھے شہادت نصیب ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہارے لیے شہادت لکھ دی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں شہیدہ کہا کرتے تھے اور آپ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرائیں، ان کا ایک مؤذن تھا، وہ اپنے گھر والوں کی امامت کراتی رہیں حتیٰ کہ ان کی لونڈی اور ان کے غلام نے ان کا گلا گھونٹ دیا، انہوں نے ان دونوں سے کہہ رکھا تھا کہ میری وفات کے بعد وہ آزاد ہوں گے، ان دونوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں انہیں قتل کیا تھا، مشہور ہو گیا کہ ام ورقہ کو قتل کر دیا گیا ہے، ان کے غلام اور ان کی لونڈی نے انہیں قتل کیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا: ام ورقہ کی لونڈی اور ان کے غلام نے ان کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا ہے اور وہ دونوں بھاگ گئے ہیں، پس انہیں لایا گیا اور انہیں سولی چڑھایا گیا، اور وہ دونوں پہلے ہیں جنہیں مدینہ منورہ میں پھانسی دی گئی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ہمارے ساتھ چلو، ہم شہیدہ سے ملیں گے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجهاد/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب الصلاة، باب امامة النساء، رقم: 591 . قال الشيخ الالباني: حسن . مسند احمد: 405/6 . معجم طبراني كبير: 326/24/25 . سنن كبري بيهقي: 130/3 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں