مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
تین امور میں جھوٹ بولنا درست ہے
حدیث نمبر: 801
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَصْلُحُ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ: الرَّجُلُ يَكْذِبُ امْرَأَتَهُ لِتَرْضَى عَنْهُ، وَالرَّجُلُ يَكْذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ، وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ".
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”صرف تین امور میں جھوٹ بولنا درست ہے: آدمی اہلیہ سے جھوٹ بولتا ہے تاکہ وہ اس سے خوش ہو جائے، آدمی لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے اور لڑائی میں جھوٹ بولتا ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البر و الصلة/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب البروالصلة، باب تحريم الكذب المباح منه، رقم: 2605 . سنن ابوداود، رقم: 4921 . سنن ترمذي، رقم: 1939 .»