سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب في وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 76
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ: لَأَعْلَمَنَّ مَا بَقَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَاهُمْ قَدْ آذَوْكَ وَآذَاكَ غُبَارُهُمْ، فَلَوِ اتَّخَذْتَ عَرِيشًا تُكَلِّمُهُمْ مِنْهُ؟، فَقَالَ: "لَا أَزَالُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ يَطَئُونَ عَقِبِي، وَيُنَازِعُونِي رِدَائِي حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي يُرِيحُنِي مِنْهُمْ"، قَالَ: فَعَلِمْتُ أَنَّ بَقَاءَهُ فِينَا قَلِيلٌ.
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا میں ضرور معلوم کروں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کب تک حیات رہیں گے؟ چنانچہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جانتا ہوں کہ نہ صرف لوگوں نے آپ کو اذیت پہنچائی، بلکہ ان کے غبار تک نے آپ کو اذیت دی، اگر آپ ایک تخت بنا لیں جس سے آپ ان سے گفتگو کر سکیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اب تک موجود ہوں، وہ میری ایڑیاں کچلتے رہیں، مری چادر کھینچتے رہیں، بس اللہ ہی مجھے ان سے راحت دے گا۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: بس میں نے سمجھ لیا کہ اب آپ تھوڑے ہی دن ہمارے درمیان حیات رہیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه عكرمة لم يدرك العباس، [مكتبه الشامله نمبر: 76] »
اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے کیونکہ عکرمہ کا لقاء حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اس کو [ابن ابي شيبه 16273] اور بزار نے روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [كشف الاستار 2466] لیکن مسند بزار ہی میں اس کا صحیح شاہد موجود ہے۔ دیکھئے: [مسند بزار 2467] اور [مصنف عبدالرزاق 434/5] میں بھی، لہٰذا حدیث صحیح ہے۔
اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے کیونکہ عکرمہ کا لقاء حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اس کو [ابن ابي شيبه 16273] اور بزار نے روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [كشف الاستار 2466] لیکن مسند بزار ہی میں اس کا صحیح شاہد موجود ہے۔ دیکھئے: [مسند بزار 2467] اور [مصنف عبدالرزاق 434/5] میں بھی، لہٰذا حدیث صحیح ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه عكرمة لم يدرك العباس
حدیث نمبر: 77
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَحْجُبُكَ؟، فَقَالَ: "لَا، دَعُوهُمْ يَطَئُونَ عَقِبِي وَأَطَأُ أَعْقَابَهُمْ حَتَّى يُرِيحَنِيَ اللَّهُ مِنْهُمْ".
داود بن علی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ہم آپ کے لئے آڑ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، انہیں چھوڑو اور میری ایڑیاں مسلنے دو، میں ان کے قدم روند ڈالوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالی مجھے ان سے راحت اور نجات دے دے گا۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 77] »
اس روایت کی سند میں کئی راوی ساقط ہیں لہٰذا معصل ضعیف ہے لیکن اس کا شاہد پچھلی روایت میں ذکر کیا جا چکا ہے۔
اس روایت کی سند میں کئی راوی ساقط ہیں لہٰذا معصل ضعیف ہے لیکن اس کا شاہد پچھلی روایت میں ذکر کیا جا چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده معضل
حدیث نمبر: 78
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ عَاصِبًا رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ حَتَّى أَهْوَى نَحْوَ الْمِنْبَرِ، فَاسْتَوَى عَلَيْهِ وَاتَّبَعْنَاهُ، قَالَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى الْحَوْضِ مِنْ مَقَامِي هَذَا"، ثُمَّ قَالَ:"إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ"، قَالَ: فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَمْوَالِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ فَمَا قَامَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الموت میں ہمارے پاس باہر تشریف لائے، آپ کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی، آپ منبر تک پہنچے اور اس پر بیٹھ گئے، ہم بھی آپ کے پیچھے ہو لئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اس مقام سے حوض (کوثر) کا مشاہدہ کر رہا ہوں“، پھر فرمایا: ”ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی تو اس نے آخرت کو اختیار کر لیا“، راوی نے کہا: کہ اس بات کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکا، چنانچہ ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، وہ رو پڑے اور کہا: اے اللہ کے رسول، ہم آپ پر اپنے ماں باپ جان و مال فدا کر دیں گے۔ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور پھر وفات تک اس پر کھڑے نہیں ہوئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 78] »
یہ روایت صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 466] ، [مسلم 2382] ، [ترمذي 3661] ، [مسند أحمد 91/3] ، [ابويعلى 1155] و [ابن حبان 6593]
یہ روایت صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 466] ، [مسلم 2382] ، [ترمذي 3661] ، [مسند أحمد 91/3] ، [ابويعلى 1155] و [ابن حبان 6593]
وضاحت: (تشریح احادیث 75 سے 78)
اس روایت سے ثابت ہوتا ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان و بشر کی طرح مرض میں مبتلا ہونا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی حالت میں بھی اُمّت کو نصیحت کی حرص رکھنا۔
نبی و رسول کا وفات سے پہلے اختیار دیا جانا۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور زود فہمی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کہ جان و مال سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربان کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔
اس روایت سے ثابت ہوتا ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان و بشر کی طرح مرض میں مبتلا ہونا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی حالت میں بھی اُمّت کو نصیحت کی حرص رکھنا۔
نبی و رسول کا وفات سے پہلے اختیار دیا جانا۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور زود فہمی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کہ جان و مال سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربان کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 79
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ، فَانْطَلِقْ مَعِي"فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِمْ، قَالَ:"السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ، لِيُهْنِكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ فِيهِ النَّاسُ، أَقْبَلَتْ الْفِتَنُ كَقِطْعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ آخِرُهَا أَوَّلَهَا: الْآخِرَةُ أَشَرُّ مِنْ الْأُولَى"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:"يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا، ثُمَّ الْجَنَّةُ، فَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي"، قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، خُذْ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا، ثُمَّ الْجَنَّةَ، قَالَ:"لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ لَقَدْ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي"، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَبُدِئَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ.
سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ”مجھے حکم دیا گیا ہے بقیع میں مدفون لوگوں کے لئے استغفار کروں، لہٰذا تم میرے ساتھ چلو“، آدھی رات میں میں آپ کے ساتھ نکلا، اور جب آپ ان کی قبروں کے پاس کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”اے قبر والو! تمہارے اوپر سلامتی ہو، تم جس حال میں ہو وہ تمہیں مبارک ہو اس کے مقابلے میں جس میں لوگ اب مبتلا ہو گئے ہیں (کاش تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہیں الله تعالی نے کس چیز سے نجات دے دی ہے)۔ فتنے اندھیری رات کے گوشوں کی طرح یکے بعد دیگرے ابل پڑے ہیں، آخری فتنہ پہلے سے زیادہ برا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، فرمایا: ”ابومویہبہ! مجھے دنیا کے خزانوں کی چابیاں اور دنیا میں ہمیشہ رہنا یا جنت دی گئی اور مجھے دنیا یا اپنے رب سے ملاقات کا اختیار دیا گیا ہے“، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان دنیا کے خزانے اور اس میں ہمیشگی کو لے لیجئے پھر جنت اختیار فرما لیجئے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اللہ کی قسم اے ابومویہبہ! نہیں، میں نے اپنے رب کی ملا قات کو اختیار کر لیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بقیع کے لئے مغفرت کی دعا کی اور لوٹ آئے، تب ہی سے وہ درد شروع ہو گیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 79]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 79] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 489/3] ، [المعجم الكبير 871] ، [المستدرك 56/2] ، [الدلائل للبيهقي 163/6 بهذا الإسناد]
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 489/3] ، [المعجم الكبير 871] ، [المستدرك 56/2] ، [الدلائل للبيهقي 163/6 بهذا الإسناد]
وضاحت: (تشریح حدیث 78)
اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل معلوم ہوتے ہیں:
تصدیقِ رسالت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احکامات الله تعالیٰ کی طرف سے ملتے تھے۔
حکمِ الٰہی کی پیروی میں آدھی رات میں گھر سے نکل پڑتے ہیں۔
مقبرے میں داخلے کا طریقہ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ» کہنا۔
دن اور زمانے سے متعلق حقیقتِ حال ذکر کرنا برا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے خزانے اور خلد عطا کیا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب ذوالجلال سے ملاقات کو ترجیح دی۔
مُردوں کے لئے دعاءِ استغفار کرنے کی مشروعیت وغیرہ اس حدیث سے ثابت ہوتی ہے۔
اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل معلوم ہوتے ہیں:
تصدیقِ رسالت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احکامات الله تعالیٰ کی طرف سے ملتے تھے۔
حکمِ الٰہی کی پیروی میں آدھی رات میں گھر سے نکل پڑتے ہیں۔
مقبرے میں داخلے کا طریقہ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ» کہنا۔
دن اور زمانے سے متعلق حقیقتِ حال ذکر کرنا برا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے خزانے اور خلد عطا کیا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب ذوالجلال سے ملاقات کو ترجیح دی۔
مُردوں کے لئے دعاءِ استغفار کرنے کی مشروعیت وغیرہ اس حدیث سے ثابت ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
حدیث نمبر: 80
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ) دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: "قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي"، فَبَكَتْ، فَقَالَ:"لَا تَبْكِي، فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لِحَاقًا بِي"، فَضَحِكَتْ، فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ: يَا فَاطِمَةُ، رَأَيْنَاكِ بَكَيْتِ ثُمَّ ضَحِكْتِ؟، قَالَتْ: إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ لِي:"لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي", فَضَحِكْتُ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ: هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب « ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ » (سورة النصر: 1/110) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے موت کی خبر دی گئی ہے“، وہ رونے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روؤو نہیں، میرے اہل و عیال میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے ملو گی“، تو وہ خوش ہو گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ بیویوں نے انہیں دیکھا اور پوچھا: اے فاطمہ! ہم نے تمہیں روتے دیکھا، پھر تم ہنس پڑیں؟ جواب دیا کہ آپ نے مجھے بتایا کہ آپ کو موت کی خبر دی گئی ہے لہٰذا میں رو پڑی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”روؤو نہیں میرے اہل میں تم ہی سب سے پہلے مجھ سے ملو گی“ یہ سن کر میں خوش ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی مدد اور فتح آ گئی، اہل یمن بھی آ گئے“، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اہل یمن کون ہیں؟ فرمایا: ”وہ نرم دل کے لوگ ہیں اور ایمان تو یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمانی ہے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 80] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے طبرانی نے [المعجم الكبير 11903] اور [الاوسط 887] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [مجمع البحرين 1221] ، [دلائل النبوة للبيهقي 167/7]
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے طبرانی نے [المعجم الكبير 11903] اور [الاوسط 887] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [مجمع البحرين 1221] ، [دلائل النبوة للبيهقي 167/7]
وضاحت: (تشریح حدیث 79)
اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی موت کی خبر دینا، اور فتح و نصرت اور یمن کی خوشخبری و فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی موت کی خبر دینا، اور فتح و نصرت اور یمن کی خوشخبری و فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 81
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَجَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ مِنْ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ!، قَالَ: "بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ"، قَالَ:"وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ؟"، فَقُلْتُ: لَكَأَنّنِي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ لَرَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، قَالَتْ:"فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ".
روایت کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کے ایک جنازے سے واپس تشریف لائے، مجھے دیکھا کہ سر درد میں مبتلا ہوں اور ہائے رے سر پکار رہی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میرا سر اے عائشہ! تمہیں کیا پریشانی ہے، اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوئیں تو میں تمہیں غسل دوں، کفن پہناؤں اورتمہاری نماز پڑھوں اور میں تمہیں دفن کروں، میں نے کہا: اگر میں مر جاؤں تو آپ کو کیا، آپ تو میرے گھر میں کسی دوسری بیوی کے ساتھ ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مرض شروع ہو گیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 81]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن ابن إسحاق مدلس وقد عنعن ولكنه صرح بالتحديث في رواية البيهقي فانتفت شبه التدليس، [مكتبه الشامله نمبر: 81] »
اس حدیث کے رواة ثقات ہیں، اور [امام بخاري 5666] و [أحمد 228/6] ، [دارقطني 12،11، 13] ، [ابن ماجه 1465] وامام بیہقی نے [سنن 396/3] میں اسے ذکر کیا ہے۔
اس حدیث کے رواة ثقات ہیں، اور [امام بخاري 5666] و [أحمد 228/6] ، [دارقطني 12،11، 13] ، [ابن ماجه 1465] وامام بیہقی نے [سنن 396/3] میں اسے ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 80)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازے میں شریک ہونا ثابت ہوتا ہے۔
تکلیف کی شدت سے بلا گلے اور شکوے کے ایسا لفظ زبان سے نکل جانا باعثِ مواخذہ نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیویوں کے ساتھ اخلاقِ کریمانہ کا پتہ چلتا ہے۔
نیز اس تنک مزاجی پر بجائے ناراض ہونے کے تبسم فرماتے ہیں، نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی میت کو غسل دے سکتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازے میں شریک ہونا ثابت ہوتا ہے۔
تکلیف کی شدت سے بلا گلے اور شکوے کے ایسا لفظ زبان سے نکل جانا باعثِ مواخذہ نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیویوں کے ساتھ اخلاقِ کریمانہ کا پتہ چلتا ہے۔
نیز اس تنک مزاجی پر بجائے ناراض ہونے کے تبسم فرماتے ہیں، نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی میت کو غسل دے سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أن ابن إسحاق مدلس وقد عنعن ولكنه صرح بالتحديث في رواية البيهقي فانتفت شبه التدليس
حدیث نمبر: 82
أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُخْتَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: "صُبُّوا عَلَيَّ سَبْعَ قِرَبٍ مِنْ سَبْعِ آبَارٍ شَتَّى حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى النَّاسِ فَأَعْهَدَ إِلَيْهِمْ"، قَالَ: فَأَقْعَدْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ فَصَبَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ صَبًّا أَوْ شَنَنَّا عَلَيْهِ شَنًّا، الشَّكُّ مِنْ قِبَلِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، فَوَجَدَ رَاحَةً، فَخَرَجَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ مِنْ أَصْحَابِ أُحُدٍ، وَدَعَا لَهُمْ، ثُمَّ قَالَ:"أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ إِلَّا فِي حَدٍّ، أَلَا إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ قَدْ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ"، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَظَنَّ أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ الشَّوَارِعَ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ امْرَءًا أَفْضَلَ عِنْدِي يَدًا فِي الصُّحْبَةِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: ”میرے اوپر سات مختلف کنوؤں سے سات مشکیزے پانی ڈالو تاکہ باہر جا کر لوگوں سے عہد لوں“، راوی نے کہا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے نہانے کے ٹب میں بٹھایا اور آپ کے اوپر پانی ڈالا۔ محمد بن اسحاق کو شک ہے کہ راوی نے «صب» کہا یا «شن» کہا (دونوں کے معانی ایک ہیں)، آپ کو کچھ راحت ملی تو آپ باہر تشریف لائے، منبر پر چڑھے، الله تعالی کی حمد و ثنا کی، شہدائے احد کے لئے دعائے مغفرت کی، پھر فرمایا: ”أما بعد، انصار میرا وہ گھر ہیں جہاں میں نے پناہ لی، پس تم ان کے شریف کی عزت کرنا اور جو برے ہیں ان سے بھی جہاں تک ہو سکے درگزر کرنا، سنو لوگو! اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دنیا اور جو اللہ تعالی کے پاس ہے اس کے درمیان اختیار دیا گیا تو اس نے جو اللہ کے پاس ہے اسے چن لیا“ (یہ سن کر) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور یقین کر لیا کہ اس سے مراد خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو ابوبکر جلدی نہ کرو۔ لوگو! سڑک کی طرف سے مسجد کے سارے دروازے بند کر دینا سوائے باب ابی بکر کے، مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ابوبکر سے زیادہ کسی آدمی نے میری صحبت میں اتنا میرے ساتھ احسان کیا ہو۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 82]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 82] »
اس حدیث کی سند میں عنعنۃ ابن اسحاق ہے اور ایک راوی ابراہیم بن مختار متکلم فیہ ہے، باقی رواة ثقات ہیں، اس حدیث کو [ابويعلي 4478] و [ابن حبان 6600، 6601] نے بھی ذکر کیا ہے اور اس کی اصل [صحيح بخاري 3654 باب سدوا الأبواب إلا باب أبى بكر] ، كتاب المناقب میں ہے۔
اس حدیث کی سند میں عنعنۃ ابن اسحاق ہے اور ایک راوی ابراہیم بن مختار متکلم فیہ ہے، باقی رواة ثقات ہیں، اس حدیث کو [ابويعلي 4478] و [ابن حبان 6600، 6601] نے بھی ذکر کیا ہے اور اس کی اصل [صحيح بخاري 3654 باب سدوا الأبواب إلا باب أبى بكر] ، كتاب المناقب میں ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 81)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیماری کی شدت برداشت کرنا ثابت ہوا۔
نیز یہ کہ پانی ڈالنے سے (گرمی کے) بخار میں کمی آتی ہے۔
رواۃِ حدیث کا حدیث بیان کرنے میں شدید احتیاط ثابت ہوتا ہے۔
نیز اس حدیث سے انصار کی فضیلت معلوم ہوئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کا اختیار دیا جانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب سے ملاقات کو ترجیح دینا ثابت ہوتا ہے۔
اس سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کی صداقت اور وصیت کہ آج تک باب ابی بکر موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع، احسان مندی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے احسان کا اعتراف۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیماری کی شدت برداشت کرنا ثابت ہوا۔
نیز یہ کہ پانی ڈالنے سے (گرمی کے) بخار میں کمی آتی ہے۔
رواۃِ حدیث کا حدیث بیان کرنے میں شدید احتیاط ثابت ہوتا ہے۔
نیز اس حدیث سے انصار کی فضیلت معلوم ہوئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کا اختیار دیا جانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب سے ملاقات کو ترجیح دینا ثابت ہوتا ہے۔
اس سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کی صداقت اور وصیت کہ آج تک باب ابی بکر موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع، احسان مندی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے احسان کا اعتراف۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أن محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 83
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُوذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ: "مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ:"هَلْ أَمَرْتُنَّ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ؟"، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ:"أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَرُبَّ قَائِلٍ مُتَمَنٍّ وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے مرض الموت میں نماز کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو نماز پڑھائیں“، پھر آپ پر غشی طاری ہو گئی، پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ازواج مطہرات سے) فرمایا: ”کیا تم نے ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لئے کہا؟“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں) میں نے عرض کیا: ابوبکر نرم دل کے ہیں کاش آپ عمر کو (امامت کا) حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صواحب یوسف کی طرح ہو، ابوبکر سے کہو لوگوں کی امامت کرائیں، ورنہ کئی لوگ اس کے خواہش مند ہوں گے اور باتیں کریں گے لیکن اللہ تعالی اور مومن (اس سے) انکار کرتے ہیں۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 83]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل فليح بن سليمان، [مكتبه الشامله نمبر: 83] »
اس حدیث کی سند حسن ہے لیکن اصل صحیح ہے جو صحیح بخاری میں سوائے آخری کلے کے اسی سیاق و سباق کے ساتھ مروی ہے۔ دیکھئے: [بخاري 679، 683] ، [ترمذي 3672] ، ابویعلی نے بھی امام دارمی کے مثل روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [مسند ابي يعلى 4478]
اس حدیث کی سند حسن ہے لیکن اصل صحیح ہے جو صحیح بخاری میں سوائے آخری کلے کے اسی سیاق و سباق کے ساتھ مروی ہے۔ دیکھئے: [بخاري 679، 683] ، [ترمذي 3672] ، ابویعلی نے بھی امام دارمی کے مثل روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [مسند ابي يعلى 4478]
وضاحت: (تشریح حدیث 82)
اس روایت سے معلوم ہوا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امامت کے لئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو متعین کرنا، ان کے افضل الأمۃ اور خلیفۂ اوّل ہونے کی دلیل ہے۔
بیوی کی بات نامناسب ہو تو رد کر دینی چاہیے، اور یہ کہ فطرت میں سب عورتیں ایک جیسی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کہ حالتِ نزع میں بھی ہوش و حواس قائم اور صحیح فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔
والله اعلم
اس روایت سے معلوم ہوا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امامت کے لئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو متعین کرنا، ان کے افضل الأمۃ اور خلیفۂ اوّل ہونے کی دلیل ہے۔
بیوی کی بات نامناسب ہو تو رد کر دینی چاہیے، اور یہ کہ فطرت میں سب عورتیں ایک جیسی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کہ حالتِ نزع میں بھی ہوش و حواس قائم اور صحیح فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔
والله اعلم
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن من أجل فليح بن سليمان
حدیث نمبر: 84
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: "تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَحُبِسَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَلَيْلَتَهُ وَالْغَدَ حَتَّى دُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ، وَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنْ عُرِجَ بِرُوحِهِ كَمَا عُرِجَ بِرُوحِ مُوسَى، فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنْ عُرِجَ بِرُوحِهِ كَمَا عُرِجَ بِرُوحِ مُوسَى، وَاللَّهِ لَا يَمُوتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أَقْوَامٍ وَأَلْسِنَتَهُمْ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يَتَكَلَّمُ حَتَّى أَزْبَدَ شِدْقَاهُ مِمَّا يُوعِدُ وَيَقُولُ، فَقَامَ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، وَإِنَّهُ لَبَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْسَنُ كَمَا يَأْسَنُ الْبَشَرُ، أَيْ قَوْمِ فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ، فَإِنَّهُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَهُ إِمَاتَتَيْنِ، أَيُمِيتُ أَحَدَكُمْ إِمَاتَةً وَيُمِيتُهُ إِمَاتَتَيْنِ وَهُوَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ؟، أَيْ قَوْمِ، فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ، فَإِنْ يَكُ كَمَا تَقُولُونَ فَلَيْسَ بِعَزِيزٍ عَلَى اللَّهِ أَنْ يَبْحَثَ عَنْهُ التُّرَابَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا مَاتَ حَتَّى تَرَكَ السَّبِيلَ نَهْجًا وَاضِحًا، فَأَحَلَّ الْحَلَالَ، وَحَرَّمَ الْحَرَامَ، وَنَكَحَ وَطَلَّقَ، وَحَارَبَ وَسَالَمَ، مَا كَانَ رَاعِي غَنَمٍ يَتَّبِعُ بِهَا صَاحِبُهَا رُءُوسَ الْجِبَالِ يَخْبِطُ عَلَيْهَا الْعِضَاهَ بِمِخْبَطِهِ وَيَمْدُرُ حَوْضَهَا بِيَدِهِ بِأَنْصَبَ وَلَا أَدْأَبَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ فِيكُمْ، أَيْ قَوْمِ فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ، قَالَ: وَجَعَلَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَبْكِي، فَقِيلَ لَهَا: يَا أُمَّ أَيْمَنَ تَبْكِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَبْكِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ الدُّنْيَا، وَلَكِنِّي أَبْكِي عَلَى خَبَرِ السَّمَاءِ انْقَطَعَ، قَالَ حَمَّادٌ: خَنَقَتِ الْعَبْرَةُ أَيُّوبَ حِينَ بَلَغَ هَا هُنَا".
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کے روز وفات پائی اور آپ (کا جسد خاکی) پیر کے دن اور رات، منگل کے دن تک رکھا رہا، بدھ کی رات کو آپ کو دفن کیا گیا، (کچھ) لوگوں نے کہا آپ مرے نہیں ہیں آپ کی روح کو (آسمان پر) لے جایا گیا ہے جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو لے جایا گیا، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں بلکہ آپ کی روح کو ویسے ہی اوپر لے جایا گیا ہے جیسے موسٰی کی روح کو آسمان پر لے جایا گیا، والله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام قوموں کے جب تک ہاتھ اور زبانیں کاٹ نہ دیں آپ مر ہی نہیں سکتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ شدت ولولہ سے آپ کے منہ سے جھاگ نکلنے لگے، پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں، بیشک آپ بشر ہیں اور بوڑھے ہوئے، جس طرح انسان بشر بوڑھا ہوتا ہے، اے لوگو! اپنے صاحب کو دفن کر دو، آپ اللہ تعالی کے نزدیک بڑے مکرم ہیں، آپ کو اللہ تعالی دو بار موت نہیں دے گا، تم سب تو ایک بار مارے جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو دو بار موت آئے؟ (یہ نہیں ہو سکتا) آپ تو اللہ کے نزدیک بڑے معزز و مکرم ہیں۔ لوگو! اپنے صاحب کو دفن کر دو، اور جیسا کہ تم کہتے ہو (کہ آپ کو موت نہیں آئی) اگر ویسا ہی ہے تو الله تعالی کے لئے کوئی مشکل و دشوار نہیں ہے کہ مٹی خود آپ کو تلاش کر لے۔ قسم اللہ کی! رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت انتقال فرمایا ہے جب کہ آپ سارا راستہ واضح کر چکے، حلال کو حلال اور حرام کو حرام کر دیا، نکاح کیا، طلاق دی، جنگ کی، اور مصالحت بھی کی۔ کوئی بھی (چرواہا) بکریوں کی دیکھ بھال کرنے والا، جو اپنے ریوڑ کو لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر جا کر ان کے لئے اپنی چھڑی سے درخت سے پتے گرائے، انہیں پانی کے لئے حوض (تالاب) پر لے جائے، تم میں سے ایسا کوئی بھی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جفاکش اور محنتی تھکنے والا نہ ہو گا، اٹھو لوگو! اپنے صاحب کو دفن کر دو۔ راوی نے کہا: سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا رو پڑی تھیں، پوچھا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر روتی ہو؟کہا: اللہ کی قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں رو رہی، کیا مجھے معلوم نہیں کہ آپ ایسی جگہ تشریف لے گئے ہیں جو آپ کے لئے دنیا سے بدرجہا بہتر ہے، مجھے تو رونا اس بات پر آ رہا ہے کہ آسمان سے وحی کا نزول منقطع ہو گیا۔ راوی حدیث حماد کا کہنا ہے کہ ایوب جب اس مقام تک پہنچے تو آنسوؤں سے ان کی آواز رُندھ گئی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 84] »
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے رواة ثقات ہیں اور اسے ابن سعد نے ذکر کیا ہے اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کا رونا [مسلم شريف 2454] میں موجود ہے۔
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے رواة ثقات ہیں اور اسے ابن سعد نے ذکر کیا ہے اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کا رونا [مسلم شريف 2454] میں موجود ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 83)
اس روایت سے معلوم ہوا:
اختلافِ رائے طبیعی امر ہے، لیکن حق واضح ہو جائے تو مان لینا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان (بشر) ہونا اور انسانوں کے سے کام کرنا، جیسا کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔
میت پر رونا لیکن واویلا سے گریز ثابت ہوتا ہے۔
نیز یہ کہ دنیا سے آخرت بہترین آرام گاہ ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت و عقیدت کا ثبوت ملتا ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا:
اختلافِ رائے طبیعی امر ہے، لیکن حق واضح ہو جائے تو مان لینا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان (بشر) ہونا اور انسانوں کے سے کام کرنا، جیسا کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔
میت پر رونا لیکن واویلا سے گریز ثابت ہوتا ہے۔
نیز یہ کہ دنیا سے آخرت بہترین آرام گاہ ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت و عقیدت کا ثبوت ملتا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه مرسل
حدیث نمبر: 85
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَعِيشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي فَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ".
مکحول رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پریشانی میں مبتلا ہو تو میری مصیبت یاد کر لے جو سارے مصائب سے بڑھ کر تھی۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 85] »
اس روایت کی یہ سند صحیح لیکن مرسل ہے، اور شاہد بھی موجود ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 4005] و [كشف الخفاء 202]
اس روایت کی یہ سند صحیح لیکن مرسل ہے، اور شاہد بھی موجود ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 4005] و [كشف الخفاء 202]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وهو مرسل