سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا مَخَافَةَ السَّقَطِ:
غلطی میں پڑ جانے کے خوف سے فتویٰ دینے سے گریز کا بیان
حدیث نمبر: 293
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: "كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا الْمَشْيَخَةُ وَهُمْ يَتَرَاجَعُونَ، فِيهِمْ عَابِدُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ شَابٌّ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ: أَفِيضُوا فِي ذِكْرِ اللَّهِ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فِي أَيِّ شَيْءٍ رَآنَا؟ ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ فَمُرَّ، لَئِنْ عُدْتَ، لَنَفْعَلَنَّ وَلَنَفْعَلَنَّ".
معاویہ بن قرہ نے کہا: میں مشائخ کے حلقہ میں تھا جو عابد بن عمرو سے رجوع کر رہے تھے، ایک طرف بیٹھے ہوئے ایک نوجوان نے کہا: (لوگو) اللہ کے ذکر میں مشغول ہو جاؤ «بارك الله فيكم»، لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، آیا اس نے ہم کو کس چیز میں مشغول دیکھا ہے؟ پھر ان میں سے کسی نے کہا: تمہیں کس نے اس کا حکم دیا؟ جاؤ بھاگو، اگر پھر ایسا کہا تو ہم تمہیں دیکھ لیں گے، ضرور دیکھیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 294] »
اس روایت کی سند میں خلیل بن مرہ ضعیف باقی رجال ثقہ ہیں۔
اس روایت کی سند میں خلیل بن مرہ ضعیف باقی رجال ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 294
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ، أَنْبَأَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّه: "نِعْمَ الْمَجْلِسُ مَجْلِسٌ تُنْشَرُ فِيهِ الْحِكْمَةُ، وَتُرْجَى فِيهِ الرَّحْمَةُ".
عون بن عبداللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتنی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت بکھیری جائے اور اس میں رحمت کی آس لگائی جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 294]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع عون بن عبد الله لم يسمع من عبد الله فيما نعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 295] »
اس روایت کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس میں انقطاع ہے، عون بن عبداللہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں، اور یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہیں ہو سکتا۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 775] ، [جامع بيان العنم 215]
اس روایت کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس میں انقطاع ہے، عون بن عبداللہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں، اور یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہیں ہو سکتا۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 775] ، [جامع بيان العنم 215]