سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب في فَضْلِ الْعِلْمِ وَالْعَالِمِ:
علم اور عالم کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 329
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: رَأَى مُجَاهِدٌ طَاوُسًا فِي الْمَنَامِ، كَأَنَّهُ فِي الْكَعْبَةِ يُصَلِّي مُتَقَنِّعًا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ:"يَا عَبْدَ اللَّهِ، اكْشِفْ قِنَاعَكَ وَأَظْهِرْ قِرَاءَتَكَ"، قَالَ: فَكَأَنَّهُ عَبَّرَهُ عَلَى الْعِلْمِ، فَانْبَسَطَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ.
ابراہیم بن میسرہ نے کہا کہ مجاہد نے طاؤوس رحمہ اللہ کو خواب میں دیکھا کہ وہ کعبہ میں نقاب لگائے نماز پڑھ رہے ہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں: اے اللہ کے بندے! اپنا نقاب ہٹا دے، اور آواز سے پڑھ (یعنی اعلانیہ حدیث بیان کر)، ابراہیم نے کہا: اس کی تعبير انہوں نے علم سے کی، اور اس کے بعد مسرور ہو کر حدیث بیان کرنے لگے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح غير أنه مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 330] »
یہ روایت مرسل ہے، اور [حلية الأولياء 5/4] میں بھی اسی طرح منقول ہے۔
یہ روایت مرسل ہے، اور [حلية الأولياء 5/4] میں بھی اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 330
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ يَمَانٍ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: "الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلَّا مُتَعَلِّمَ خَيْرًا، أَوْ مُعَلِّمُهُ".
کعب نے کہا: دنیا ملعونہ ہے اور جو اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے خیر کے سیکھنے اور سکھانے والے کے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن يحيى بن يمان حسن الحديث فيما لم يخالف فيه، [مكتبه الشامله نمبر: 331] »
اس روایت کی سند حسن، اور کعب پر موقوف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2322] ، [ابن ماجه 4112] ، [مصنف ابن أبى شيبه 7277] ، [شعب الإيمان 1708] وغیرہم، لیکن یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور امام ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے، الفاظ یہ ہیں: «الدُّنْيَا مَلْعُوْنَةٌ، مَلْعُوْنٌ مَا فَيْهَا إِلَّا ذِكْرِ اللهِ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّم» ۔
اس روایت کی سند حسن، اور کعب پر موقوف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2322] ، [ابن ماجه 4112] ، [مصنف ابن أبى شيبه 7277] ، [شعب الإيمان 1708] وغیرہم، لیکن یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور امام ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے، الفاظ یہ ہیں: «الدُّنْيَا مَلْعُوْنَةٌ، مَلْعُوْنٌ مَا فَيْهَا إِلَّا ذِكْرِ اللهِ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّم» ۔
وضاحت: (تشریح احادیث 328 سے 330)
ملعون سے مراد یہ ہے کہ عالم و متعلم کے علاوہ سب اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔
ملعون سے مراد یہ ہے کہ عالم و متعلم کے علاوہ سب اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔
حدیث نمبر: 331
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ بَحِيرٍ بن سعد، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: "النَّاسُ عَالِمٌ وَمُتَعَلِّمٌ، وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ هَمَجٌ لَا خَيْرَ فِيهِ".
خالد بن معدان نے فرمایا: لوگ یا تو عالم ہیں یا متعلم، اور ان دونوں کے درمیان جو ہیں وہ رذیل لوگ ہیں، جن میں کوئی خیر نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير بن أبي عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 332] »
اس اثر کی سند میں محمد بن کثیر بن ابی عطاء ضعیف ہیں، لیکن اس کا شاہد موجود ہے اس لئے معنی صحیح، اور اس کی نسبت معدان کی طرف درست ہے۔ دیکھے: [الزهد لأحمد ص: 136] ، [جامع بيان العلم 114] ، [مجمع الزوائد 503، 505]
اس اثر کی سند میں محمد بن کثیر بن ابی عطاء ضعیف ہیں، لیکن اس کا شاہد موجود ہے اس لئے معنی صحیح، اور اس کی نسبت معدان کی طرف درست ہے۔ دیکھے: [الزهد لأحمد ص: 136] ، [جامع بيان العلم 114] ، [مجمع الزوائد 503، 505]
حدیث نمبر: 332
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ: "مَوْتُ الْعَالِمِ ثُلْمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، لَا يَسُدُّهَا شَيْءٌ مَا اخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ".
ہشام نے روایت کیا کہ حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ کہتے تھے کہ عالم کی موت اسلام میں ایک شگاف ہے، جس کو رہتی دنیا تک کوئی چیز بند نہ کر سکے گی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 332]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 333] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن یہ حسن رحمہ اللہ کا قول ہے حدیث نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن سنداً ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الزهد لأحمد ص: 262] ، [جامع بيان العلم 1021] ، [شعب الإيمان 1719] ، [المقاصد الحسنه 79] ، [كشف الخفاء 273] وغيرهم۔
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن یہ حسن رحمہ اللہ کا قول ہے حدیث نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن سنداً ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الزهد لأحمد ص: 262] ، [جامع بيان العلم 1021] ، [شعب الإيمان 1719] ، [المقاصد الحسنه 79] ، [كشف الخفاء 273] وغيرهم۔
حدیث نمبر: 333
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُنْذِرٌ هُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: "مَجْلِسٌ يُتَنَازَعُ فِيهِ الْعِلْمُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ قَدْرِهِ صَلَاةً، لَعَلَّ أَحَدَهُمْ يَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيَنْتَفِعُ بِهَا سَنَةً، أَوْ مَا بَقِيَ مِنْ عُمُرِهِ".
وہب بن منبہ نے فرمایا: میرے نزدیک ایسی مجلس جس میں علم کے بارے میں مناقشہ ہو، اسی قدر نماز سے زیادہ پسندیدہ و محبوب ہے، اس لئے کہ شاید ان میں سے کوئی ایسا کلمہ سن لے جو اس کو سال بھر یا باقی ماندہ عمر میں فائدہ دے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 334] »
اس اثر کی سند صحیح ہے «وانفرد به الدارمي» ۔
اس اثر کی سند صحیح ہے «وانفرد به الدارمي» ۔
وضاحت: (تشریح احادیث 330 سے 333)
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم سیکھنا اور سکھانا نفلی نماز سے بہتر ہے جس کا فائدہ دوسرے لوگوں تک ممتد ہے اور نماز صرف اپنے لئے فائدہ مند ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم سیکھنا اور سکھانا نفلی نماز سے بہتر ہے جس کا فائدہ دوسرے لوگوں تک ممتد ہے اور نماز صرف اپنے لئے فائدہ مند ہے۔
حدیث نمبر: 334
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: "مَا أَعْلَمُ عَمَلًا أَفْضَلَ مِنْ طَلَبِ الْعِلْمِ وَحِفْظِهِ لِمَنْ أَرَادَ اللَّهَ تعَالَي بِهِ خَيْرًا"..
سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ الله تعالیٰ بھلائی چاہے اس کے لئے علم حاصل کرنے اور اس کے حفظ سے بہتر کوئی عمل نہیں جانتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 335] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 363/6] ، [جامع بيان العلم 99، 100] اس میں ہے: «لَيْسَ عَمَلَ بَعْدَ الْفَرَائِضِ أَفْضَلَ مِنْ طَلَبِ الْعِلْمِ» یعنی فرائض کے بعد طلب علم سے بہتر کوئی عمل نہیں۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 363/6] ، [جامع بيان العلم 99، 100] اس میں ہے: «لَيْسَ عَمَلَ بَعْدَ الْفَرَائِضِ أَفْضَلَ مِنْ طَلَبِ الْعِلْمِ» یعنی فرائض کے بعد طلب علم سے بہتر کوئی عمل نہیں۔
حدیث نمبر: 335
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا وَكِيعٌ، وَقَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ:"إِنَّ النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَى هَذَا الْعِلْمِ فِي دِينِهِمْ، كَمَا يَحْتَاجُونَ إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ فِي دُنْيَاهُمْ"..
حسن بن صالح نے فرمایا: لوگ یقیناً اپنے دینی معاملات میں اسی طرح اس علم کے محتاج ہوں گے جس طرح اپنی دنیا میں کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 336] »
اس کی سند صحیح مثل سابق ہے۔ نیز دیکھئے: [شرف أصحاب الحديث 178]
اس کی سند صحیح مثل سابق ہے۔ نیز دیکھئے: [شرف أصحاب الحديث 178]
حدیث نمبر: 336
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "تَعَلَّمُوا قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ، فَإِنَّ قَبْضَ الْعِلْمِ قَبْضُ الْعُلَمَاءِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ وَالْمُتَعَلِّمَ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم حاصل کرو، اس سے قبل کہ وہ سمیٹ لیا جائے، بیشک علم کا سمٹنا علماء کا سمٹ جانا (ختم ہو جانا) ہے، یقیناً عالم اور متعلم (طالب علم) اجر میں برابر ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 337] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، لیکن شاہد موجود ہے، جیسا کہ رقم (251، 252) میں گزر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [ابن أبى شيبه 6172]
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، لیکن شاہد موجود ہے، جیسا کہ رقم (251، 252) میں گزر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [ابن أبى شيبه 6172]
حدیث نمبر: 337
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ الضَّحَّاكِ: وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ سورة آل عمران آية 79، قَالَ: "حَقٌّ عَلَى كُلِّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ أَنْ يَكُونَ فَقِيهًا".
ضحاک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آیت شریفہ: « ﴿وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ ....﴾ » [آل عمران: 79/3] کا مطلب ہے کہ جو بھی قرآن پڑھے اس پر واجب ہے کہ وہ فقیہ (یعنی عالم ربانی) بنے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 337]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 338] »
اس اثر کے رواۃ ثقات ہیں۔ دیکھئے: [تفسير ابن كثير 55/2] ، [الدر المنثور 47/2] ، [تفسير الطبري 325/3] ، [الفقيه 51/1] و [تهذيب الكمال 296/13]
اس اثر کے رواۃ ثقات ہیں۔ دیکھئے: [تفسير ابن كثير 55/2] ، [الدر المنثور 47/2] ، [تفسير الطبري 325/3] ، [الفقيه 51/1] و [تهذيب الكمال 296/13]
حدیث نمبر: 338
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ الْحَسَنِ: لَوْلا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ سورة المائدة آية 63، قَالَ: "الْحُكَمَاءُ الْعُلَمَاءُ".
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت: « ﴿لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ ....﴾ » [المائدة: 63/5] ”انہیں ان کے عابد و عالم کیوں نہیں روکتے ہیں“ کی تفسیر میں فرمایا کہ «الربانيون» سے مراد حکماء اور علماء ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 338]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث بن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 339] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور اس کو امام دارمی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور اس کو امام دارمی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا ہے۔