سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب صِيَانَةِ الْعِلْمِ:
علم کی حفاظت کا بیان
حدیث نمبر: 601
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أُمَيٍّ الْمُرَادِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: "تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ، فَاكْظِمُوا عَلَيْهِ وَلَا تَشُوبُوهُ بِضَحِكٍ، وَلَا بِلَعِبٍ فَتَمُجَّهُ الْقُلُوبُ".
اُمی المرادی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم سیکھو، اور جب علم حاصل کر چکو تو اس کی حفاظت کرو، ہنسی مذاق، کھیل کود سے اسے خلط ملط نہ کرو کہ دل اسے نکال پھینکیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 601]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 602] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 300/7] ، [الجامع 213]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 300/7] ، [الجامع 213]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 602
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَحِمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: "مَنْ ضَحِكَ ضَحْكَةً مَجَّ مَجَّةً مِنْ الْعِلْمِ".
فضیل بن غزوان سے مروی ہے: علی بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا: جو ایک بار ہنسا اس نے علم کی ایک بار کلی کر دی۔ یعنی ہنسنا اور قہقہے لگانا عالم کی شان نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 603] »
اس قول کی سند محمد بن حمید کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [زوائد عبدالله على زهد الإمام أحمد 166] ، لیکن [حلية الأولياء 133/3] اور [شعب الايمان 1830] میں یہ روایت صحیح سند سے موجود ہے۔
اس قول کی سند محمد بن حمید کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [زوائد عبدالله على زهد الإمام أحمد 166] ، لیکن [حلية الأولياء 133/3] اور [شعب الايمان 1830] میں یہ روایت صحیح سند سے موجود ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف من أجل محمد بن حميد
حدیث نمبر: 603
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ لِكَعْبٍ: "مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ؟، قَالَ: الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، قَالَ: فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوبِ الْعُلَمَاءِ؟، قَالَ: الطَّمَعُ".
سفیان سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہل علم کون لوگ ہیں؟ کہا: جو علم کے مطابق عمل کرتے ہیں، فرمایا: اور علماء کے دل سے علم کو کس چیز نے خارج کر دیا؟ جواب دیا: (طمع) لالچ نے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 604] »
اس روایت کی سند سے دو راوی ساقط ہیں، لہٰذا یہ روایت معضل ہے، دیگر کسی محدث نے اسے روایت نہیں کیا، لیکن عبداللہ بن سلام سے صحیح سند کے ساتھ یہ روایت (594) پر گزر چکی ہے۔
اس روایت کی سند سے دو راوی ساقط ہیں، لہٰذا یہ روایت معضل ہے، دیگر کسی محدث نے اسے روایت نہیں کیا، لیکن عبداللہ بن سلام سے صحیح سند کے ساتھ یہ روایت (594) پر گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده معضل
حدیث نمبر: 604
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: كُنْتُ نَازِلًا عَلَى عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ فَأَتَاهُ رَسُولُ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ حِينَ حَضَرَهُ رَمَضَانُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: إِنَّ الْأَمِيرَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَقَالَ: إِنَّا لَمْ نَدَعْ قَارِئًا شَرِيفًا إِلَّا وَقَدْ وَصَلَ إِلَيْهِ مِنَّا مَعْرُوفٌ، فَاسْتَعِنْ بِهَذَيْنِ عَلَى نَفَقَةِ شَهْرِكَ هَذَا، فَقَالَ: أَقْرِئْ الْأَمِيرَ السَّلَامَ، وَقُلْ لَهُ: "إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَرَأْنَا الْقُرْآنَ نُرِيدُ بِهِ الدُّنْيَا وَدِرْهَمَهَا".
ابوایاس نے کہا: میں عمرو بن نعمان کے پاس مقیم تھا کہ مصعب بن زبیر کا قاصد رمضان میں دو ہزار درہم لے کر ان کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: امیر (محترم) نے آپ کو سلام کہا ہے اور حکم دیا ہے کہ ہم کسی بھی معزز قاری کو بنا کسی تحفہ تحائف کے نہ چھوڑیں اس لئے یہ دو ہزار اس مہینہ کا خرچ قبول فرمایئے۔ عمرو بن نعمان نے کہا: ان امیر محترم کو میرا سلام کہو، اور ان سے کہدو الله کی قسم ہم نے قرآن (کریم) کو دنیا اور دراہم کی چاہت میں نہیں پڑھا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «محمد بن حميد ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 605] »
اس روایت کی سند میں محمد بن حمید ضعیف ہیں، لیکن [مصنف ابن أبى شيبه 10054] میں جید سند سے یہ روایت موجود ہے۔
اس روایت کی سند میں محمد بن حمید ضعیف ہیں، لیکن [مصنف ابن أبى شيبه 10054] میں جید سند سے یہ روایت موجود ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 598 سے 604)
خلوصِ وللّٰہیت کا یہ بہترین نمونہ ہے اور اپنے علم کو مال و دولت کی طمع سے بچا کر محفوظ رکھا جاسکتا ہے، اسی میں عزت ہے، وقار ہے، اور علم کی سربلندی ہے۔
خلوصِ وللّٰہیت کا یہ بہترین نمونہ ہے اور اپنے علم کو مال و دولت کی طمع سے بچا کر محفوظ رکھا جاسکتا ہے، اسی میں عزت ہے، وقار ہے، اور علم کی سربلندی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: محمد بن حميد ضعيف