🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب في الذَّهَابِ إِلَى الْحَاجَةِ:
قضائے حاجت کے لئے (دور) جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 683
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِذَا ذَهَبَ إِلَى الْحَاجَةِ، أَبْعَدَ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بعض اسفار میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے نکلتے تو بہت دور چلے جاتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 683]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 686] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [مسند احمد 248/4] ، [أبوداؤد 1] ، [ترمذي 20] ، [نسائي 18/1، 19] ، [ابن ماجه 334] ، [المنتقی 27] ، [البيهقي 93/1] ، [ابن خزيمة 50] ، [المستدرك 140/1] و [أصله فى البخاري 363] و [ مسلم 274]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 684
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِذَا تَبَرَّزَ تَبَاعَدَ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هُوَ الْأَدَبُ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لئے جاتے تو بہت دور چلے جاتے۔
امام ابومحمد الدارمی نے فرمایا: یہ قضائے حاجت کے آداب میں سے ہے۔ یعنی آدمی جنگل میں جائے تو دور آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تب حاجت رفع کرے تاکہ کوئی دیکھ نہ سکے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 684]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 687] »
تخريج اس روایت کی سند صحیح ہے، جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں