🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

84. باب في غُسْلِ الْمُسْتَحَاضَةِ:
زائد حیض والی (مستحاضہ) عورت کے غسل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَذَلِكَ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ، وَلِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَلَا تَصُومُ، وَلَا يَأْتِيهَا زَوْجُهَا، وَلَا تَمَسُّ الْمُصْحَفَ".
ابراہیم نے کہا: مستحاضہ مدت حیض میں بیٹھی رہے گی (یعنی نماز نہ پڑھے گی اور پاک ہو کر) ظہر عصر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، مغرب کو مؤخر کر کے عشاء کے اول وقت میں نماز پڑھے گی اور فجر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، اور وہ نہ روزہ رکھے گی نہ شوہر کے ساتھ صحبت کرے گی اور نہ قرآن پاک کو ہاتھ لگائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 826]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 830] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1172] و [المحلي 214/2]
وضاحت: (تشریح احادیث 818 سے 826)
روزہ رکھنا، نماز نہ پڑھنا، جماع سے پرہیز کرنا اور مصحف کو ہاتھ نہ لگانا یہ سب حائضہ کے احکام ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 827
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَغُسْلًا لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ"، وَكَانَ يَقُولُ:"تُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ".
عطاء نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مستحاضہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ ظہر و عصر کے لئے ایک بار غسل کرے گی اور ایک بار مغرب و عشاء کے لئے، نیز وہ فرماتے تھے کہ ظہر کو مؤخر کر کے عصر جلدی پڑھے گی، اور مغرب کو مؤخر کر کے عشاء جلدی پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 831] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 208/1، 286] ، [ابن أبى شيبه 127/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 828
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا خَلَفَتْ قُرُوءُهَا: "فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْعَصْرِ تَوَضَّأَتْ وُضُوءًا سَابِغًا ثُمَّ لِتَأْخُذْ ثَوْبًا، فَلْتَسْتَثْفِرْ بِهِ، ثُمَّ لِتُصَلِّ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ لِتَفْعَلْ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ لِتُصَلِّ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ لِتَفْعَلْ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُصَلِّي الصُّبْحَ".
مجاہد سے مستحاضہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب اس کا حیض کا خون گڑ بڑ ہو جائے تو عصر کے وقت اگر یہ گڑ بڑی ہو تو وضو کر کے کپڑا لے کر روئی سے باندھ لے، پھر ظہر و عصر ملا کر پڑھ لے، اور اسی طرح کرتی رہے، پھر مغرب عشاء ملا کر پڑھے، اور ایسا ہی کرتی رہے، پھر صبح کی نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 828]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى مجاهد، [مكتبه الشامله نمبر: 832] »
مجاہد تک اس روایت کی سند صحیح ہے، اور صرف امام دارمی نے اس قول کو روایت کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 826 سے 828)
«قروء» «قرء» کی جمع ہے «اقراء» بھی «قرء» کی جمع ہے، اہلِ حجاز میں «قرء» (طہر) پاکی کے ایام کے لئے بولا جاتا ہے اور اہلِ عراق کے نزدیک ایامِ حیض کے لئے بولا جاتا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 829
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَسَعِيدٍ، وَعِكْرِمَةَ، قَالُوا: فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ لِصَلَاةِ الْأُولَى وَالْعَصْرِ، فَتُصَلِّيهِمَا، وَتَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَتُصَلِّيهِمَا، وَتَغْتَسِلُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ".
عطاء، سعید، عکرمہ رحمہم اللہ مستحاضہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ پہلی نماز (ظہر) اور عصر کے لئے روزانہ ایک مرتبہ غسل کرے گی، اور مغرب عشاء کے لئے ایک بار غسل کر کے دونوں نماز پڑھے گی اور صبح کی نماز کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 829]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 833] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1171] و [المحلي لابن حزم 214/2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ تَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَإِنْ رَأَتْ شَيْئًا اغْتَسَلَتْ وَجَمَعَتْ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ".
عبداللہ بن شداد نے کہا: زائد حیض والی عورت غسل کرے گی، پھر ظہر عصر ایک ساتھ ملا کر پڑھے گی، اگر کوئی چیز دیکھے تو پھر غسل کرے گی اور مغرب عشاء ملا کر پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 830]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 834] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 296]
وضاحت: (تشریح احادیث 828 سے 830)
ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ عورت جس کو اپنے حیض کے ایام معلوم ہیں، 5 یا 6 یا 7 دن، اس کے بعد بھی خون جاری رہے تو وہ حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، باقی دنوں میں غسل کر کے نماز پڑھے گی۔
کچھ روایات میں صرف ایک بار شروع میں غسل کر لے، اور جب تک بھی یہ عارضہ ہے، صفائی اور وضو کر کے نماز پڑھے گی، روزہ بھی رکھ سکتی ہے، اور شوہر کے لئے حلال ہوگی۔
بعض روایات میں ہے کہ دن میں ایک بار غسل کر لے۔
بعض روایات میں ہے ظہر اور عصر کے لئے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لئے ایک غسل اور فجر کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔
مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں