سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. باب الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ عِنْدَ الصَّلاَةِ أَوْ تَحِيضُ:
نماز کے وقت میں کوئی عورت پاک ہو یا اسے حیض آئے
حدیث نمبر: 905
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا طَهُرَتْ الْمَرْأَةُ فِي وَقْتِ صَلَاةٍ، فَلَمْ تَغْتَسِلْ وَهِيَ قَادِرَةٌ عَلَى أَنْ تَغْتَسِلَ، قَضَتْ تِلْكَ الصَّلَاةَ".
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: جب عورت نماز کے وقت پاک ہو اور استطاعت کے باوجود غسل نہ کرے تو وہ اس نماز کو قضا کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 905]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 909] »
امام حسن رحمہ اللہ تک اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اس کو ابن ابی شیبہ نے [237/2] میں بسند ضعیف ذکر کیا ہے۔
امام حسن رحمہ اللہ تک اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اس کو ابن ابی شیبہ نے [237/2] میں بسند ضعیف ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 906
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا صَلَّتْ الْمَرْأَةُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ حَاضَتْ فَلَا تَقْضِي إِذَا طَهُرَتْ".
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب عورت کو دو رکعت پڑھنے کے بعد حیض آ جائے، تو پاک ہونے کے بعد اس نماز کی قضا نہیں پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 906]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 910] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 339/2 بسند صحيح]
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 339/2 بسند صحيح]
حدیث نمبر: 907
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِيُّ أَبُو سُفْيَانَ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ:..
اس اثر کا معنی وہی ہے جو (905) میں ذکر ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 907]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 911] »
قتادہ کے اس اثر کو عبدالرزاق نے [مصنف 1288] میں ذکر کیا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: ” «إِذَا رَأتِ الْمَرْأَةُ الطُّهْرَ فِيْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ تَغْتَسِلْ حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا، فَلْتُعِدُ تِلْكَ الصَّلَاةَ، تَقْضِيْهَا» “۔ نیز (913) میں آ رہی ہے۔ بعض لوگوں نے اس اثر کو اگلے اثر نمبر (912) سے جوڑ دیا ہے۔
قتادہ کے اس اثر کو عبدالرزاق نے [مصنف 1288] میں ذکر کیا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: ” «إِذَا رَأتِ الْمَرْأَةُ الطُّهْرَ فِيْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ تَغْتَسِلْ حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا، فَلْتُعِدُ تِلْكَ الصَّلَاةَ، تَقْضِيْهَا» “۔ نیز (913) میں آ رہی ہے۔ بعض لوگوں نے اس اثر کو اگلے اثر نمبر (912) سے جوڑ دیا ہے۔
حدیث نمبر: 908
ح حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ عِنْدَ الظُّهْرِ، فَتُؤَخِّرُ غُسْلَهَا حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ الْعَصْرِ، قَالَا: "تَقْضِي الظُّهْرَ"..
عطاء نے اس عورت کے بارے میں کہا جو ظہر کے وقت پاک ہو جائے اور عصر تک غسل نہ کرے، دونوں نے کہا وہ ظہر قضا پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 908]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثر قتادة إسناده صحيح. أما الحديث الذي نهايته " تقضي الظهر " في إسناده أثر عطاء الحجاج بن أرطاة وهو ضعيف ولكن الأثر صحيح بسابقه، [مكتبه الشامله نمبر: 912] »
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن بات صحیح ہے «كما مر آنفا» ۔
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن بات صحیح ہے «كما مر آنفا» ۔
حدیث نمبر: 909
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ..
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 913] »
حدیث نمبر: 910
وَمُغِيرَةُ، عَنْ عَامِرٍ..
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 914] »
حدیث نمبر: 911
وَعُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْمَرْأَةِ تُفَرِّطُ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُدْرِكَهَا الْحَيْضُ، قَالُوا: "تُعِيدُ تِلْكَ الصَّلَاةَ"..
امام حسن، امام عامر شعبی و امام ابراہیم رحمہم اللہ سے اس عورت کے بارے میں مروی ہے جو نماز میں کوتاہی کرے اور اسے حیض آ جائے، انہوں نے کہا: اس نماز کو وہ (قضا) پڑھے گی (یعنی طہر کے بعد اسے وہ نمازیں پڑھنی ہوں گی)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 911]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْمَرْأَةِ تُفَرِّطُ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُدْرِكَهَا الْحَيْضُ، قَالُوا: «تُعِيدُ تِلْكَ الصَّلَاةَ» ، [مكتبه الشامله نمبر: 915] »
ان تینوں اسلاف کرام کے یہ اقوال صحیح اور درست ہیں۔ حوالے کے لئے دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 337/2، 339، 340] و [مصنف عبدالرزاق 1286، 1289] ، [والأثر الآتي 919]
ان تینوں اسلاف کرام کے یہ اقوال صحیح اور درست ہیں۔ حوالے کے لئے دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 337/2، 339، 340] و [مصنف عبدالرزاق 1286، 1289] ، [والأثر الآتي 919]
حدیث نمبر: 912
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَيُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، فِي امْرَأَةٍ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَفَرَّطَتْ حَتَّى حَاضَتْ، قَالَا: "تَقْضِي تِلْكَ الصَّلَاةَ إِذَا اغْتَسَلَتْ".
امام حسن رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو کوتاہی کرے، نماز کا وقت آئے نماز نہ پڑھے حتی کہ اسے حیض شروع ہو جائے، تو وہ نماز نہانے کے بعد قضا پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 912]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 916] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ حجاج: ابن منہال ہیں اور تخریج گذر چکی ہے۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ حجاج: ابن منہال ہیں اور تخریج گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 913
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، قَالَا: "إِذَا ضَيَّعَتْ الْمَرْأَةُ الصَّلَاةَ حَتَّى تَحِيضَ، فَعَلَيْهَا الْقَضَاءُ إِذَا طَهُرَتْ".
حسن اور قتادۃ نے کہا: عورت نماز ضائع کر دے اور حیض آ جائے تو اس پر پاکی کے بعد (اس نماز کی) قضا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 913]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 917] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ ابوشهاب کا نام عبدربہ بن نافع ہے۔ نیز یہ روایت (910، 911، 912) میں گزرچکی ہے۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ ابوشهاب کا نام عبدربہ بن نافع ہے۔ نیز یہ روایت (910، 911، 912) میں گزرچکی ہے۔
حدیث نمبر: 914
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِذَا فَرَّطَتْ ثُمَّ حَاضَتْ، قَضَتْ".
امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب عورت کوتاہی کرے اور حیض آ جائے تو (اس نماز کی) قضا کرے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 914]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 918] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ ابونعیم: فضل بن دکین ہیں اور حسن: ابن صالح، مغیرہ: ابن مقسم ہیں۔ دیکھئے اثر رقم (905)۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ ابونعیم: فضل بن دکین ہیں اور حسن: ابن صالح، مغیرہ: ابن مقسم ہیں۔ دیکھئے اثر رقم (905)۔
وضاحت: (تشریح احادیث 902 سے 914)
ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورت نماز کے وقت سستی کرے اور نماز پڑھنے کی جلدی کوشش نہ کرے اور اس کو نماز کے وقت حیض آنے لگ جائے تو وہ صرف اسی نماز کی قضا کرے گی جس کو سستی اور کاہلی میں ادا نہیں کر سکی، باقی نمازیں اس پر معاف ہوں گی۔
ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورت نماز کے وقت سستی کرے اور نماز پڑھنے کی جلدی کوشش نہ کرے اور اس کو نماز کے وقت حیض آنے لگ جائے تو وہ صرف اسی نماز کی قضا کرے گی جس کو سستی اور کاہلی میں ادا نہیں کر سکی، باقی نمازیں اس پر معاف ہوں گی۔