سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
107. باب مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ:
حیض والی عورت سے مباشرت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1078
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "لَا بَأْسَ أَنْ تُؤْتَى الْحَائِضُ بَيْنَ فَخِذَيْهَا وَفِي سُرَّتِهَا".
مجاہد نے کہا: حیض والی عورت کی رانوں اور سرة (ناف، ٹنڈی) سے کھیلنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 1082] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کا شاہد [مصنف ابن ابي شيبه 256/4] میں موجود ہے۔
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کا شاہد [مصنف ابن ابي شيبه 256/4] میں موجود ہے۔
حدیث نمبر: 1079
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ، إِلَّا الدُّبُرَ وَالْمَحِيضَ".
مجاہد نے کہا: دبر اور حیض کی جگہ کے علاوہ آگے پیچھے کہیں سے آؤ۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 1083] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ اور کہیں یہ روایت نہیں ملی۔
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ اور کہیں یہ روایت نہیں ملی۔
حدیث نمبر: 1080
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ، فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا لَكِ، أَنَفِسْتِ؟"، قُلْتُ: وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ، قَالَ:"ذَاكَ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ"، قَالَتْ: فَقُمْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي، ثُمَّ رَجَعْتُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ادْخُلِي فِي اللِّحَافِ"، فَدَخَلْتُ.
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے حیض آ گیا، میں کھڑی ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ عرض کیا: وہی ہو گیا جو عورتوں کو ہو جاتا ہے، فرمایا: ”یہ چیز بنات آدم کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دی ہے“، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پس میں اٹھ کھڑی ہوئی اور میں نے اپنی حالت درست کی، پھر (آپ کے پاک) واپس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لحاف کے اندر آ جاؤ“، لہذا میں داخل ہو گئی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1084] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 294/6] ، [ابن ماجه 637] ، [مسند أبى يعلی 426/12] ، [مصنف ابن أبى شيبه 254/4] و [مصنف عبدالرزاق 1235]
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 294/6] ، [ابن ماجه 637] ، [مسند أبى يعلی 426/12] ، [مصنف ابن أبى شيبه 254/4] و [مصنف عبدالرزاق 1235]
وضاحت: (تشریح احادیث 1071 سے 1080)
اس حدیث سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی حسنِ معاشرت پر روشنی پڑتی ہے، اور اس میں اُمت کے لئے تعلیم ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی خاطر ہی ایسا فرمایا: «﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى . إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾ [النجم: 3، 4] » یعنی: ”آپ وہی چیز بتاتے ہیں جس کی آپ کے اوپر وحی کی جاتی ہے، آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔
“ اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت کے ساتھ ایک کپڑے اور لحاف میں لیٹنے میں کوئی حرج نہیں، یہ اُمت کے لئے آسانی اور بہت بڑی رخصت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے نبی! ہم نے آپ کو سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
“
اس حدیث سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی حسنِ معاشرت پر روشنی پڑتی ہے، اور اس میں اُمت کے لئے تعلیم ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی خاطر ہی ایسا فرمایا: «﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى . إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾ [النجم: 3، 4] » یعنی: ”آپ وہی چیز بتاتے ہیں جس کی آپ کے اوپر وحی کی جاتی ہے، آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔
“ اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت کے ساتھ ایک کپڑے اور لحاف میں لیٹنے میں کوئی حرج نہیں، یہ اُمت کے لئے آسانی اور بہت بڑی رخصت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے نبی! ہم نے آپ کو سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
“
حدیث نمبر: 1081
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعَةٌ فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي، فَقَالَ: "أَنَفِسْتِ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ:"فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ"، قَالَتْ: وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"يَغْتَسِلَانِ مِنْ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنْ الْجَنَابَةِ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں تھی کہ مجھے حیض آ گیا، میں اپنے کپڑے سنبھال کر چپکے سے نکل آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا حیض آ گیا؟“ عرض کیا: جی ہاں، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے مجھے بلایا اور میں آپ کے ساتھ اسی چادر میں لیٹ گئی۔ نیز انہوں نے کہا کہ وہ اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ایک تسلے سے باہم غسل جنابت کرتے، اور آپ انہیں روزے کی حالت میں بوسہ دیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1085] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 298] ، [مسلم 296] ، [مسند أبى يعلی 6691] و [صحيح ابن حبان 1363]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 298] ، [مسلم 296] ، [مسند أبى يعلی 6691] و [صحيح ابن حبان 1363]
وضاحت: (تشریح حدیث 1080)
حیض والی عورت کو اپنے ساتھ لٹانا، ایک ساتھ غسل کرنا اور روزے میں بوسہ دینا، یہ ساری چیزیں بیانِ جواز کے لئے تھیں تاکہ اُمّت کو صحیح تعلیم ملے۔
حیض والی عورت کو اپنے ساتھ لٹانا، ایک ساتھ غسل کرنا اور روزے میں بوسہ دینا، یہ ساری چیزیں بیانِ جواز کے لئے تھیں تاکہ اُمّت کو صحیح تعلیم ملے۔
حدیث نمبر: 1082
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ فَوْقَ الْإِزَارِ وَهِيَ حَائِضٌ".
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی کے بھی ساتھ حالت حیض میں ازار کے اوپر سے مباشرت فرما لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1086] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند الموصلي 7082] ، [صحيح ابن حبان 1368] و [بيهقي 191/7]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند الموصلي 7082] ، [صحيح ابن حبان 1368] و [بيهقي 191/7]
حدیث نمبر: 1083
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَشُدَّ عَلَيْهَا إِزَارَهَا، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: ہم میں سے کسی کو جب حیض آتا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کس کے ازار باندھنے کا حکم فرماتے، پھر ان سے مباشرت فرماتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1087] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ تخریج (1073) پرگذر چکی ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ تخریج (1073) پرگذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 1084
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: "كُنْتُ أَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ".
ابومیسرہ سے مروی ہے ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں حالت حیض میں ازار کستی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں گھس جاتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1088] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بيهقي 314/1] ۔ نیز دیکھئے پچھلی اور آنے والی تخریج (1093)۔ ابومیسرة کا نام عمرو بن شرحبیل ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بيهقي 314/1] ۔ نیز دیکھئے پچھلی اور آنے والی تخریج (1093)۔ ابومیسرة کا نام عمرو بن شرحبیل ہے۔
حدیث نمبر: 1085
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ جُبَيْرٍ: مَا لِلرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا؟، قَالَ: "مَا فَوْقَ الْإِزَارِ".
یزید بن ابی زیاد سے مروی ہے: ابن جبیر سے پوچھا گیا: جب عورت حالت حیض میں ہو تو مرد کے لئے کیا کچھ حلال ہے؟ فرمایا: ازار کے اوپر اوپر حلال ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد، [مكتبه الشامله نمبر: 1089] »
یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 254/4]
یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 254/4]
حدیث نمبر: 1086
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ فِي الْحَائِضِ، قَالَ: "الْفِرَاشُ وَاحِدٌ، وَاللُّحُفُ شَتَّى، فَإِنْ كَانُوا لَا يَجِدُونَ، رَدَّ عَلَيْهَا مِنْ لِحَافِهِ".
عبیده (السلمانی) سے حائضہ کے بارے میں مروی ہے کہ بستر چاہے ایک ہو لیکن لحاف الگ ہونا چاہے، اگر لحاف نہ ہو تو مرد اپنا لحاف اس پر ڈال دے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1090] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 382/2] و [تفسير قرطبي 83/3 فى تفسير قوله تعالىٰ: «﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾» بقرة: 222/2]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 382/2] و [تفسير قرطبي 83/3 فى تفسير قوله تعالىٰ: «﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾» بقرة: 222/2]
وضاحت: (تشریح احادیث 1081 سے 1086)
اس روایت میں ہے کہ حائضہ کو مرد کے لحاف سے دور رہنا واجب ہے۔
لیکن یہ قول مرجوح اور شاذ ہے، صحیح حدیث میں ایک ساتھ سونے اور مباشرت یعنی صرف لپٹنے اور چپٹنے کی اجازت ہے، جیسا کہ اگلی روایت نمبر (1088) پر آ رہا ہے۔
اس روایت میں ہے کہ حائضہ کو مرد کے لحاف سے دور رہنا واجب ہے۔
لیکن یہ قول مرجوح اور شاذ ہے، صحیح حدیث میں ایک ساتھ سونے اور مباشرت یعنی صرف لپٹنے اور چپٹنے کی اجازت ہے، جیسا کہ اگلی روایت نمبر (1088) پر آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 1087
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ لَهُ: "مَا فَوْقَ السَّرَرِ أَوْ السُّرَّةِ".
شریح (القاضی) نے فرمایا: مرد کے لئے سُرہ سے اوپر کا حصہ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1091] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1239] ، [تفسير طبري 384/2]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1239] ، [تفسير طبري 384/2]