سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
114. باب مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ في دُبُرِهَا:
جو آدمی اپنی بیوی کے دبر میں جماع کرے اس (کے جرم) کا بیان
حدیث نمبر: 1180
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَسَعِيدٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا "يُنْكِرُونَ إِتْيَانَ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ، وَيَقُولُونَ: هُوَ الْكُفْرُ".
طاؤس، سعید، مجاہد، عطاء رحمہم اللہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ عورتوں کے سرین (پاخانہ کی جگہ) جماع کرنے کا شدت سے انکار کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ یہ کفر ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1185] »
یہ اسناد صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 74/1] ، [الدر المنثور 262/1]
یہ اسناد صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 74/1] ، [الدر المنثور 262/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 1171 سے 1180)
اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے، اس فعلِ قبیح کی کسی نے اجازت نہیں دی کیونکہ شریعتِ اسلامیہ کے نصوصِ صریحہ میں اس کی سخت ممانعت ہے، لہٰذا سرین میں جماع کرنا حرام ہے جو کفر تک لے جاتے ہیں۔
اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے، اس فعلِ قبیح کی کسی نے اجازت نہیں دی کیونکہ شریعتِ اسلامیہ کے نصوصِ صریحہ میں اس کی سخت ممانعت ہے، لہٰذا سرین میں جماع کرنا حرام ہے جو کفر تک لے جاتے ہیں۔