🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

193. باب في وَقْتِ الْجُمُعَةِ:
جمعہ کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1584
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامٍ، قَالَ:"كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَتَبَادِرُ الظِّلَّ فِي أُطُمِ بَنِي غَنْمٍ، فَمَا هُوَ إِلَّا مَوَاضِعُ أَقْدَامِنَا".
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے، پھر واپس ہوتے تو بنوغنم کے قلعہ کے سائے تلے جانے میں جلدی کرتے جو ہمارے قدموں کے برابر ہوتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1584]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 1586] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لیکن دوسری آنے والی حدیث اس کی شاہد ہے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [الطيالسي 672] ، [بيهقي 191/3] ، [مسند أحمد 164/1، 167] ، [أبويعلی 680] ، [مجمع الزوائد 3137]
وضاحت: (تشریح حدیث 1583)
یعنی سایہ زیادہ طویل نہ ہوتا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوّل وقت میں جمعہ پڑھتے تھے۔
آج عصر کے وقت تک نمازِ جمعہ کو مؤخر کیا جا تا ہے جو قطعاً اسوۂ حسنہ یا سنّت کی پیروی نہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1585
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:"كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو دیواروں کا سایا اتنا نہیں ہوتا تھا کہ ہم اس میں ٹھہر سکیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1585]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1587] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4168] ، [مسلم 860] ، [أبوداؤد 1085] ، [ابن ماجه 1100] ، [ابن حبان 1151، 1512] ، [دارقطني 18/2]
وضاحت: (تشریح حدیث 1584)
اس صحیح متفق علیہ حدیث سے جمعہ کی نماز اوّل وقت میں پڑھنے کا واضح ثبوت ملا۔
سعودی عرب میں اسی پر عمل ہے۔
اور ساری مساجد میں ایک ہی وقت میں نماز ہوتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ کسی مسجد میں بارہ بجے، کسی میں ایک بجے، اور کسی مسجد میں دو اور تین بجے تک جمعہ کی نماز ہوتی رہے۔
الله تعالیٰ لوگوں کو سمجھ دے، آمین۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں