🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

212. باب الْوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ:
سواری پر وتر پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1629
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَقُولُ بِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ کہا: ہاں (یعنی وتر سواری پر پڑھا جا سکتا ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1631] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 999] ، [مسلم 700] ، [أبوداؤد 1226] ، [ترمذي 472] ، [نسائي 1687] ، [ابن ماجه 1200] ، [أبويعلی 5459] ، [ابن حبان 2413]
وضاحت: (تشریح حدیث 1628)
اس حدیث سے سواری پر بیٹھے ہوئے وتر پڑھنا ثابت ہوا، علماء کرام نے کہا: یہ وتر کے عدم وجوب کی دلیل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نوافل سواری پر پڑھتے تھے اور فرض نماز پڑھنی ہوتی تو سواری سے اتر کر پڑھتے۔
واللہ اعلم۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں