🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب كَيْفَ وُجُوبُ الْحَجِّ:
حج کے ایک بار واجب (فرض) ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كُلِّ عَامٍ؟ قَالَ:"لَا، وَلَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ، الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَا زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال میں فرض ہے؟ فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال میں واجب ہو جاتا ہے، (حج عمر میں) صرف ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زیادہ نفل ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1826]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1829] »
اس روایت کی سند میں کچھ کلام ہے، لیکن متعدد طرق سے مروی ہے اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1721] ، [نسائي 2619] ، [ابن ماجه 2886] ، [أحمد 256/1] ، [الحاكم 293/2] ، [بيهقي 326/4] ، [أبويعلی 517، 542]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1827
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ.
اس طریق سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حسب سابق روایت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1827]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1830] »
تخریج اور تفصیل اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1825 سے 1827)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت سوال نہیں کرنا چاہیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہا کہ تم پر حج فرض ہے۔
ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر فرمایا کہ اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال حج فرض ہے تو واجب ہو جاتا اور پھر تم ہر سال حج ادا نہ کر سکتے، اور ہر سال حج ادا نہ کرتے تو (ترکِ حج کے) عذاب دیئے جاتے، فرض اور واجب کرنا الله تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہہ دیتے تو الله کی طرف سے ویسا ہی حکم صادر ہو جاتا، یہ بھی رحمۃ للعالمین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امّت پر رحمت و مہربانی کی اعلیٰ مثال ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں