🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. باب مَنْ قَالَ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ:
عورتوں کے اوپر بال منڈانا واجب نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1943
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ، إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر بال منڈانا (صحیح) نہیں ہے، ان پر صرف بال کترنا (واجب) ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1947] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 1984، 1985] ، [طبراني 13018] ، [مجمع الزوائد 5678]
وضاحت: (تشریح حدیث 1942)
عمرے اور حج میں عورت کے لئے بال منڈانا جائز و درست نہیں ہے، وہ صرف بال کتریں گی، ہر لٹ سے ایک پورٹے کے برابر، اس سے زیادہ چھوٹے بال کرنا بھی درست نہیں، بال عورت کی پہچان اور زینت ہیں جو حج و عمرے میں بھی منڈانا یا زیادہ چھوٹے کرنا درست نہیں تو پھر حج یا عمرے کے علاوہ بلا ضرورت بالوں کو چھوٹے کرنا یا منڈا دینا مردوں کے ساتھ مشابہت ہے، اور ایسے مرد اور عورت پر لعنت کی گئی ہے جو ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کریں۔
واللہ اعلم۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں