🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. باب في الْجُنُبِ يَأْكُلُ:
جنبی کے کھانا کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2115
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ، تَوَضَّأَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو وضو فرما لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2123] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 286] ، [مسلم 305] ، [أبوداؤد 224] ، [نسائي 255] ، [ابن ماجه 591] ، [أبويعلی 4522] ، [ابن حبان 1217]
وضاحت: (تشریح احادیث 2113 سے 2115)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالتِ جنابت میں غسل کرنے سے پہلے سونا جائز و درست ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں طرح ثابت ہے، کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر لیتے تب آرام فرماتے اور کبھی صرف وضو پر اکتفا کرتے اور سو جاتے تھے۔
مسلم شریف میں متعدد روایاتِ قولیہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ حالتِ جنابت میں کوئی سو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں سو سکتا ہے جبکہ اعضاء کو دھو لے اور وضو کرلے۔

امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: ان تمام احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ جنبی کا کھانا، پینا، سونا درست ہے، اس پر سب کا اجماع ہے۔
ان حدیثوں کی رو سے مستحب یہ ہے کہ کھانا، پینا یا دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کر لے اور شرمگاہ کو دھو لے۔
اگر ایسا نہ کیا تو مکروہ ہے، اور بعض کے نزدیک وضو کرنا واجب ہے۔
ان احادیث سے یہ بھی نکلتا ہے کہ جنابت کا غسل فی الفور واجب نہیں بلکہ جب نماز کے لئے اٹھے اس وقت واجب ہے۔
(انتہیٰ باختصار ... وحیدی)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں