🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. باب الشَّرْطِ في النِّكَاحِ:
نکاح کی شرطوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2240
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ مِنَ الْفُرُوجِ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: وہ شرطیں جن کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2240]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2249] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2721] ، [مسلم 1418] ، [أبوداؤد 2139] ، [ترمذي 1127] ، [نسائي 3281] ، [ابن ماجه 1954] ، [أبويعلی 1754] ، [ابن حبان 4092]
وضاحت: (تشریح حدیث 2239)
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شرائط سب سے زیادہ پوری کرنے کی مستحق ہیں وہ شروطِ نکاح ہیں، کیونکہ اس کا معاملہ بڑا ہی نازک ہے۔
سبل السلام میں ہے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نکاح میں شرط طے کرنا جائز ہے اور انہیں پوری کرنا ضروری ہے۔
نکاح کی شرطوں سے کیا مراد ہے، اس میں اختلاف ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ادائیگی مہر ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ زوجیت کے تقاضے میں عورت جس چیز کی مستحق ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ شروط جو نکاح پر آمادہ کرنے کے لئے مرد نے عورت سے طے کی ہوں اور شریعت میں ممنوع نہ ہوں، یہی زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
(شرح بلوغ المرام للشیخ صفی الرحمٰن رحمہ اللہ)۔
قسطلانی رحمہ اللہ نے کہا: اس سے مراد وہ شرطیں ہیں جو عقدِ نکاح کے مخالف نہیں، جیسے مباشرت، نان و نفقہ سے متعلق شرطیں، اور اس قسم کی شرطیں کہ دوسرا نکاح نہ کرے گا، یا لونڈی نہ رکھے گا، یا سفر پر نہ لے جائے گا پوری کرنا ضروری نہیں، بلکہ یہ شرطیں لغو ہوں گی۔
امام احمد رحمہ اللہ اور اہل الحدیث کا قول یہ ہے کہ ہر قسم کی شرط جس پر اتفاق ہو گیا ہو پوری کرنی ہوگی «(المؤمنون على شروطهم)» سوائے ان شرطوں کے جو کتاب و سنّت کے خلاف ہوں کیونکہ حدیث مطلق ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں