🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. باب النَّهْيِ عَنْ رُكُوبِ الدَّابَّةِ مِنَ الْمَغْنَمِ وَلُبْسِ الثَّوْبِ مِنْهُ:
غنیمت کے جانور پر سوار ہونے اور غنیمت کے کپڑے پہننے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2524
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ: ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ هُوَ: ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلًى لِتُجِيبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: غَزَوْنَا الْمَغْرِبَ وَعَلَيْنَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَافْتَتَحْنَا قَرْيَةً يُقَالُ لَهَا: جَرْبَةَ فَقَامَ فِينَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَقُومُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحْنَاهَا: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلا يَرْكَبَنَّ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى إِذَا أَجْحَفَهَا أَوْ قَالَ: أَعْجَفَهَا، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: أَنَا أَشُكُّ فِيهِ رَدَّهَا". وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ، رَدَّهُ فِيهِ".
حنش صنعانی نے کہا: ہم نے سیدنا رويفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مغرب میں جہاد کیا تو ہم نے ایک گاؤں کو فتح کیا جس کو جربہ کہا جاتا تھا، اس وقت سیدنا رويفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو کہا: میں تمہارے درمیان اس لئے اس وقت کھڑا ہوا ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے بعد ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تو فرمایا: جو کوئی الله پر اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہے تو وہ مسلمانوں کے مالِ غنیمت کے گھوڑے پر سوار نہ ہو، اور جب وہ کمزور ہو جائے گا تو اسے واپس کر دے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: «ردها» کے بارے میں مجھے شبہ ہے۔
پھر فرمایا: اور جو کوئی الله پر اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مالِ غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے حتی کہ جب وہ بوسیدہ و پرانا ہوجائے تو اسے واپس بیت المال میں جمع کرا دے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2524]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2531] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1441] ، [أبوداؤد 2156] ، [ابن حبان 4850] ، [الموارد 1675]
وضاحت: (تشریح حدیث 2523)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غنیمت میں حاصل شدہ کپڑوں اور گھوڑوں کو میدانِ جنگ میں ضرورت کے وقت استعمال میں لایا جا سکتا ہے، بعد میں ان کو استعمال کرنا ممنوع ہے۔
بعض علماء نے وقتی طور پر استعمال کرنے کے لئے بھی سپہ سالار کی اجازت کو شرط قرار دیا ہے۔
(مبارکپوری رحمہ اللہ)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں