🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا}:
باب: آیت کی تفسیر ”سو حمل والیوں کی عدت ان کے بچے کا پیدا ہو جانا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4909
وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ وَاحِدُهَا ذَاتُ حَمْلٍ.
‏‏‏‏ اور «أولات الأحمال» سے مراد «ذات حمل» ہے جس کے معنی حمل والی عورت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4909]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4909
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ: أَفْتِنِي فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ بَعْدَ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، قُلْتُ: أَنَا وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ غُلَامَهُ كُرَيْبًا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ: قُتِلَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ وَهِيَ حُبْلَى، فَوَضَعَتْ بَعْدَ مَوْتِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَخُطِبَتْ، فَأَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ خَطَبَهَا،
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آنے والے نے پوچھا کہ آپ مجھے اس عورت کے متعلق مسئلہ بتائیے جس نے اپنے شوہر کی وفات کے چار مہینے بعد بچہ جنا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جس کا خاوند فوت ہو وہ عدت کی دو مدتوں میں جو مدت لمبی ہو اس کی رعایت کرے۔ (ابوسلمہ نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا کہ (قرآن مجید میں تو ان کی عدت کا یہ حکم ہے) حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی اس مسئلہ میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں۔ ان کی مراد ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے تھی آخر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے۔ ام المؤمنین نے بتایا کہ سبیعہ اسلمیہ کے شوہر (سعد بن خولہ رضی اللہ عنہما) شہید کر دیئے گئے تھے وہ اس وقت حاملہ تھیں شوہر کی موت کے چالیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا پھر ان کے پاس نکاح کا پیغام پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح کر دیا۔ ابوالسنابل بھی ان کے پاس پیغام نکاح بھیجنے والوں میں سے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4909]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جبکہ اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آنے والے نے مسئلہ پوچھا: ”آپ مجھے اس عورت کے متعلق بتائیے جس نے اپنے شوہر کی وفات کے چالیس راتیں بعد بچہ جنم دیا ہو؟“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اس کی عدت دونوں عدتوں میں دور تر، یعنی طویل تر عدت ہے۔“ میں نے کہا: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] ”حمل والی عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اپنے بھتیجے (ابوسلمہ) کے ساتھ ہوں۔“ آخر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب رحمہ اللہ کو ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا، ام المومنین رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر شہید کر دیے گئے تھے جبکہ وہ اس وقت حاملہ تھیں۔ شوہر کی وفات کے چالیس راتوں بعد انہوں نے بچہ جنم دیا، پھر ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح کر دیا۔ حضرت ابوسنابل رضی اللہ عنہ بھی انہیں پیغامِ نکاح بھیجنے والوں میں سے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4909]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4910
وَقَالَ:سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَكَانَ أَصْحَابُهُ يُعَظِّمُونَهُ، فَذَكَرُوا لَهُ، فَذَكَرَ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، فَحَدَّثْتُ بِحَدِيثِ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: فَضَمَّزَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَفَطِنْتُ لَهُ، فَقُلْتُ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ فَاسْتَحْيَا، وَقَالَ: لَكِنْ عَمُّهُ لَمْ يَقُلْ ذَاكَ، فَلَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ، فَسَأَلْتُهُ، فَذَهَبَ يُحَدِّثُنِي حَدِيثَ سُبَيْعَةَ، فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِيهَا شَيْئًا؟ فَقَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا تَجْعَلُونَ عَلَيْهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4.
اور سلیمان بن حرب اور النعمان نے بیان کیا، کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے اور ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں ایک مجلس میں جس میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی تھے موجود تھا۔ ان کے شاگرد ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔ میں نے وہاں سبیعہ بنت الحارث کا عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے بیان کیا کہ اس پر ان کے شاگرد نے زبان اور آنکھوں کے اشارے سے ہونٹ کاٹ کر مجھے تنبیہ کی۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں سمجھ گیا اور کہا کہ عبداللہ بن عتبہ کوفہ میں ابھی زندہ موجود ہیں۔ اگر میں ان کی طرف بھی جھوٹ نسبت کرتا ہوں تو بڑی جرات کی بات ہو گی مجھے تنبیہ کرنے والے صاحب اس پر شرمندہ ہو گئے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے کہا لیکن ان کے چچا تو یہ بات نہیں کرتے تھے۔ (ابن سیرین نے بیان کیا کہ) پھر میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا وہ بھی سبیعہ والی حدیث بیان کرنے لگے لیکن میں نے ان سے کہا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اس سلسلہ میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے تو انہوں نے کہا کیا تم اس پر (جس کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور وہ حاملہ ہو۔ عدت کی مدت کو طول دے کر) سختی کرنا چاہتے ہو اور رخصت و سہولت دینے کے لیے تیار نہیں، بات یہ ہے کہ چھوٹی سورۃ نساء یعنی (سورۃ الطلاق) بڑی سورۃ النساء کے بعد نازل ہوئی ہے اور کہا «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن‏» الایۃ اور حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4910]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں ایک ایسی مجلس میں حاضر تھا جہاں حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ بھی تھے۔ ان کے شاگرد ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ انہوں نے حاملہ کی عدت وفات «أَبْعَدُ الْأَجَلَيْنِ» (طویل تر) بیان کی تو میں نے وہاں سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی حدیث عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کے حوالے سے بیان کر دی۔ ان کے شاگردوں میں سے کسی نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ میں بات سمجھ گیا اور کہا: ”عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ ابھی کوفہ میں بقید حیات ہیں، اگر میں ان کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہوں تو بڑی جرأت کی بات ہو گی۔“ اس پر مجھے تنبیہ کرنے والے صاحب شرمندہ ہو گئے۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہنے لگے: ”لیکن ان کے چچا (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تو یہ بات نہیں کہی۔“ پھر میں ابو عطیہ مالک بن عامر رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے میں نے یہی مسئلہ پوچھا تو وہ بھی سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بیان کرنے لگے۔ میں نے ان سے کہا: ”آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں کچھ سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے تو انہوں نے فرمایا: ”تم اس پر سختی کرنا چاہتے ہو اور اسے رخصت و سہولت دینے کے لیے تیار نہیں ہو؟ حالانکہ چھوٹی سورہ نساء (سورہ طلاق) بڑی سورہ نساء (سورہ بقرہ) کے بعد نازل ہوئی ہے۔ (اس میں ہے کہ) ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] ”اور حمل والی خواتین کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے۔“““ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4910]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں