مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مُتَطَلَّبَاتُ الإِيمَانِ الأَسَاسِيَّةُ)
ایمان کے بنیادی تقاضے
حدیث نمبر: 8
8 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -": ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ ؛ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص میں تین خصلتیں ہوں اس نے ان کے ذریعے ایمان کی لذت و حلاوت کو پا لیا، جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ محبوب ہوں، جو شخص کسی سے محض اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو، اور جو شخص دوبارہ کافر بننا، اس کے بعد کہ اللہ نے اسے اس سے بچا لیا، ایسے ناپسند کرتا ہو جیسے وہ آگ میں ڈالا جانا ناپسند کرتا ہے۔“ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 8]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (21) و مسلم (43/ 67)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه