مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1.05. (أَسْئِلَةُ اليَهُودِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
یہودیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنا
حدیث نمبر: 58
الْفَصْلُ الثَّانِي 58 - عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: لَا تَقُلْ: نَبِيٌّ، إِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ لَكَانَ لَهُ أَرْبَعُ أَعْيُنٍ. فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا مُحْصَنَةً، وَلَا تُوَلُّوا لِلْفِرَارِ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً - الْيَهُودَ - أَنْ لَا تَعْتَدُوا فِي السَّبْتِ". قَالَ: فَقَبَّلَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، وَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ. قَالَ:"فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبَعُونِي؟". قَالَا: إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَعَا رَبَّهُ أَنْ لَا يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُودُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو، تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا: تم انہیں نبی نہ کہو؛ کیونکہ اگر انہوں نے تمہاری بات سن لی تو وہ بہت خوش ہوں گے، پس وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے واضح نشانیوں کے بارے میں آپ سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، نہ زنا کرو، نہ کسی ایسی جان کو جس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ کسی بے گناہ شخص کو کسی صاحبِ اقتدار کے پاس لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے، جادو نہ کرو، نہ سود کھاؤ، پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ، نہ معرکہ کے دن میدانِ جہاد سے پیٹھ پھیر کر بھاگو، اور تم بالخصوص یہود پر لازم ہے کہ تم ہفتے کے دن کے بارے میں زیادتی نہ کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہیں، آپ نے فرمایا: ”تو پھر کون سی چیز تمہیں میری اتباع نہیں کرنے دیتی؟“ انہوں نے عرض کیا: داؤد علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ نبوت کا سلسلہ ان کی اولاد میں جاری رہے، اور ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کر لی تو یہود ہمیں قتل کر دیں گے۔ اس حدیث کو ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 58]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2733 و قال: ھذا حديث حسن صحيح، 3144) و أبو داود (لم أجده) والنسائي (7/ 111 ح 4083) [و ابن ماجه (3705) ] قلت: فيه عبد الله بن سلمة: حسن الحديث علي الراجح .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن