مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2.11. (وَسْوَسَةُ الشَّيْطَانِ بِشَأْنِ خَلْقِ اللَّهِ)
تخلیق الہیٰ کے بارے میں شیطانی وسوسہ
حدیث نمبر: 76
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 76 - عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (لَنْ يَبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ، حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ؟) رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَلِمُسْلِمٍ (قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُوا: مَا كَذَا؟ مَا كَذَا؟ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.؟.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ وہ کہیں گے: ان سب چیزوں کو اللہ نے پیدا فرمایا، تو پھر اللہ عزوجل کو کس نے پیدا کیا؟“ اسے بخاری نے روایت کیا۔ متفق علیہ، رواہ البخاری (7296) و مسلم۔ اور مسلم کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: آپ کی امت کے لوگ اس طرح کہتے رہیں گے: یہ کیا؟ اسے کیوں پیدا کیا ہے؟ حتیٰ کہ وہ کہیں گے: اس مخلوق کو تو اللہ نے پیدا فرمایا، تو پھر اللہ عزوجل کو کس نے پیدا کیا ہے؟“ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7296) و مسلم (217 / 136)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه