مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3.04. (أَهَمِّيَّةُ الْعَمَلِ)
عمل کی اہمیت
حدیث نمبر: 85
85 - وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ) . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا، وَنَدَعُ الْعَمَلَ؟ قَالَ، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ؟ أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ، ثُمَّ قَرَأَ: (فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى) الْآيَةَ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی جہنم میں اور جنت میں جگہ لکھ دی گئی ہے۔ “ انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! کیا ہم پھر اپنے نوشتہ تقدیر پر بھروسہ کر لیں۔ اور عمل کرنا چھوڑ دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو، ہر ایک کو، جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے، میسر کر دیا جاتا ہے، جو شخص سعادت مندوں میں سے ہو گا تو اس کے لیے اہل سعادت کے عمل آسان کر دئیے جائیں گے، اور جو شخص بد نصیبوں میں سے ہوا تو اس کے لیے بدنصیبی والے عمل آسان کر دئیے جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”جس کسی نے اللہ کی راہ میں دیا اور ڈرتا رہا، اور اچھی بات کی تصدیق کی، تو ہم بہت جلد اس کے لیے نیکی کی راہ آسان کر دیں گے: “ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1362) و مسلم (2647/6) [و البيهقي في کتاب القضاء والقدر (47) ] »
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه