مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3.08. (بَعْضُ صِفَاتِ اللَّهِ)
کچھ صفات الہی
حدیث نمبر: 91
91 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ (- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -) بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ، وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ حِجَابُهُ النُّورُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں پانچ چیزوں کے متعلق خبر دیتے ہوئے فرمایا: ”بے شک اللہ سوتا ہے نہ یہ اس کی شان کے لائق ہے کہ وہ سو جائے، وہ میزان کو اوپر نیچے کرتا رہتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف پہنچا دیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اس حجاب کو اٹھا دے تو اس کے چہرے کے انوار وہاں تک اس مخلوق کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“ اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (293 / 179)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 92
92 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -) : يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ يَخْفِضُ، وَيَرْفَعُ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: (يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: مَلْآنُ - سَحَّاءُ لَا يُغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن کی سخاوت اسے کم نہیں کرتی، تم نے دیکھا کہ اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے جو خرچ کیا اس نے اس کے ہاتھ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی، اور اس کا عرش پانی پر ہے، اور میزان اس کے ہاتھ میں ہے وہ اسے پست کرتا اور بلند کرتا ہے۔“ متفق علیہ، اسے بخاری (4684) اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔“ ابن نمیر رحمہ اللہ نے کہا: ”دونوں ہاتھ بھرے ہوئے ہیں۔ رات اور دن کی سخاوت اس میں کوئی کمی نہیں کرتی۔“ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4684) و مسلم (37/ 993)
يمين الله ملأي إلخ، رواه مسلم (36/ 993)»
يمين الله ملأي إلخ، رواه مسلم (36/ 993)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 93
93 - وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ (- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -) عَنْ ذَرَّارِيِّ الْمُشْرِكِينَ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے اعمال کے متعلق اللہ بہتر جانتا ہے۔“ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1384) و مسلم (27 / 2659)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه