🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3.14. (بَعْضُ عَلَامَاتِ الإِيمَانِ)
ایمان کی کچھ علامات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
104 - وَعَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، وَيُؤْمِنُ بِالْمَوْتِ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ وہ چار چیزوں پر ایمان لے آئے، وہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، وہ موت اور موت کے بعد زندہ کیے جانے پر ایمان رکھتا ہو اور وہ تقدیر پر ایمان رکھتا ہو۔ اس حدیث کو ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2145) و ابن ماجه (81) [وصححه ابن حبان (الإحسان: 178) والحاکم (1/ 33) ووافقه الذهبي .]
٭ رواه ربعي عن رجل عن علي رضي الله عنه فالسند معلل .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
105 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ: الْمُرْجِئَةُ، وَالْقَدَرِيَّةُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ (حَسَنٌ صَحِيحٌ)
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں یعنی مرجیہ اور قدریہ۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2149 وقال: ھذا حديث حسن غريب .) [و ابن ماجه (62) ]
٭ نزار ضعيف وللحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں