🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ:
باب: قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک دل لگا رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5060
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک اس میں دل لگے، جب جی اچاٹ ہونے لگے تو پڑھنا بند کر دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5060]
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دلوں میں الفت رہے، جب اس میں تمہیں اختلاف کا اندیشہ ہو تو اٹھ جاؤ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5060]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5061
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ"، تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَ أَبَانُ، وَقَالَ غُنْدَرٌ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا قَوْلَهُ، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ: وجُنْدَبٌ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ.
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس قرآن کو جب ہی تک پڑھو جب تک تمہارے دل ملے جلے یا لگے رہیں۔ جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو۔ (قرآن مجید پڑھنا موقوف کر دو) سلام کے ساتھ اس حدیث کو حارث بن عبید اور سعید بن زید نے بھی ابوعمران جونی سے روایت کیا اور حماد بن سلمہ اور ابان نے اس کو مرفوع نہیں بلکہ موقوفاً روایت کیا ہے اور غندر محمد بن جعفر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران سے یوں روایت کیا کہ میں نے جندب سے سنا، وہ کہتے تھے۔ (لیکن موقوفاً روایت کیا) اور عبداللہ بن عون نے اس کو ابوعمران سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا قول روایت کیا (مرفوعاً نہیں کیا) اور جندب کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5061]
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہارے دل جمے رہیں قرآن مجید پڑھتے رہو اور جب اختلاف کرنے لگو تو اٹھ جاؤ۔ حارث بن عبید اور سعید بن زید نے ابو عمران سے روایت کرنے میں سلام بن ابو مطیع کی متابعت کی ہے۔ مذکورہ حدیث کو حماد بن سلمہ اور ابان نے مرفوع ذکر نہیں کیا۔ غندر نے شعبہ کے ذریعے سے ابو عمران سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے ان کا قول سنا۔ اور ابن عون نے ابو عمران سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا ہے لیکن جندب کی روایت اصح اور اکثر ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5061]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5062
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ آَيَةً سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ فَاقْرَءَا أَكْبَرُ عِلْمِي قَالَ: فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے، ان سے نزال بن سبرہ نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) کو ایک آیت پڑھتے سنا، وہی آیت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف سنی تھی۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں صحیح ہو (اس لیے اپنے اپنے طور پر پڑھو۔) (شعبہ کہتے ہیں کہ) میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ (اختلاف و نزاع نہ کیا کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتوں نے اختلاف کیا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5062]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک آدمی سے سنا جو ایک آیت ایسے طریقے سے پڑھ رہا تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف سنا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ٹھیک پڑھتے ہو۔ میرا غالب گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: بلاشبہ تم سے پہلے لوگوں نے کتاب اللہ میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 5062]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں