مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (يَجُوزُ اغْتِسَالُ الرَّجُلِ وَالمَرْأَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَهُمَا جُنُبٌ)
حیض کے مسائل
حدیث نمبر: 545
(12) بَابُ الْحَيْضِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 545 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ الْآيَةَ، فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحِ"فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ. فَقَالُوا: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ. فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حَضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، أَفَلَا نُجَامِعُهُنَّ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا، فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا، فَعَرِفَا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں کا یہ طرز عمل تھا کہ جب ان میں کسی عورت کو حیض آ جاتا تو وہ اس کے ساتھ کھانا نہ کھاتے اور نہ انہیں گھر میں ساتھ رکھتے تھے، پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] ”وہ آپ سے حیض کے بارے میں مسئلہ دریافت کرتے ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ» ”جماع کے علاوہ سب کچھ کرو۔“ چنانچہ یہودیوں کو جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے کہا: یہ آدمی (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا چاہتا ہے؟ یہ تمام معاملات میں ہماری مخالفت ہی کرتا ہے۔ چنانچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما حاضر خدمت ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہودی یہ یہ کہتے ہیں، کیا ہم ان سے (حالت حیض میں) جماع نہ کریں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، حتیٰ کہ ان دونوں نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں پر ناراض ہو گئے ہیں، پس وہ وہاں سے چل دیے، (اسی اثنا میں) انہیں دودھ کا ہدیہ ملا جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کو ان کے پیچھے بھیجا اور انہیں (بلا کر) دودھ پلایا جس سے انہوں نے پہچان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر ناراض نہیں ہیں۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (16/ 302)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح