صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ التَّرْغِيبُ فِي النِّكَاحِ:
باب: نکاح کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q5063
لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ}.
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا «فانكحوا ما طاب لكم من النساء» کہ ”تم کو جو عورتیں پسند آئیں ان سے نکاح کر لو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: Q5063]
حدیث نمبر: 5063
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ أَحَدُهُمْ: أَمَّا أَنَا، فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلَا أُفْطِرُ، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:" أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم کو حمید بن ابی حمید طویل نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5063]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے گھروں کی طرف آئے تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق معلومات حاصل کریں۔ جب انہیں (اس کی) خبر دی گئی تو انہوں نے اسے کم خیال کیا، کہنے لگے: ”ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت سے کیا مقابلہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ بخش دیے ہیں۔“ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: ”میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا۔“ دوسرے نے کہا: ”میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔“ تیسرے نے کہا: ”میں عورتوں سے علیحدگی اختیار کروں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔“ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور آپ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے یہ باتیں کہی ہیں؟ خبردار! اللہ کی قسم! میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں لیکن میں روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اس کے علاوہ عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5063]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5064
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى:وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا سورة النساء آية 3، قَالَتْ:" يَا ابْنَ أُخْتِي، الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا، يُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ صَدَاقِهَا، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فَيُكْمِلُوا الصَّدَاقَ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے حسان بن ابراہیم سے سنا، انہوں نے یونس بن یزید ایلی سے، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فإن خفتم أن لا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم ذلك أدنى أن لا تعولوا» کے متعلق پوچھا ”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں سے انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو۔ دو دو سے، خواہ تین تین سے، خواہ چار چار سے، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو، اس صورت میں قوی امید ہے کہ تم ظلم و زیادتی نہ کر سکو گے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! آیت میں ایسی یتیم مالدار لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ وہ لڑکی کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے اس کی طرف مائل ہو اور اس سے معمولی مہر پر شادی کرنا چاہتا ہو تو ایسے شخص کو اس آیت میں ایسی لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں اگر اس کے ساتھ انصاف کر سکتا ہو اور پورا مہر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اجازت ہے، ورنہ ایسے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اپنی پرورش میں یتیم لڑکیوں کے سوا اور دوسری لڑکیوں سے شادی کر لیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5064]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ [سورة النساء: 3] کے متعلق سوال کیا: ”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچیوں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں دو دو، خواہ تین تین، خواہ چار چار سے تم نکاح کر لو۔ اگر تمہیں خطرہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے یا لونڈی جو تمہاری ملکیت میں ہو۔ اس صورت میں قوی امید ہے کہ تم ظلم و زیادتی نہیں کرو گے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے بھانجے! آیت کریمہ میں ایسی یتیم لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے سر پرست کی پرورش میں ہو اور وہ اس کے مال و متاع اور حسن و جمال کی وجہ سے اس کی طرف مائل ہو اور اس سے معمولی حق مہر کے بدلے شادی چاہتا ہو تو آیت کریمہ میں ایسے شخص کو یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں، اگر اس کے ساتھ انصاف کر سکتا ہو اور پورا حق مہر دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اجازت ہے۔ بہرحال ایسے لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زیر پرورش (یتیم بچیوں) سے نکاح کرنے کے بجائے دوسری عورتوں سے شادی کر لیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5064]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة