🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لأَخِيهِ انْظُرْ أَيَّ زَوْجَتَيَّ شِئْتَ حَتَّى أَنْزِلَ لَكَ عَنْهَا:
باب: کسی شخص کا اپنے بھائی سے یہ کہنا کہ تم میری جس بیوی کو بھی پسند کر لو میں اسے تمہارے لیے طلاق دے دوں گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5072
رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ.
‏‏‏‏ اس کو عبدالرحمٰن بن عوف نے بھی روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: Q5072]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5072
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، وَعِنْدَ الْأَنْصَارِيِّ امْرَأَتَانِ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَأَتَى السُّوقَ فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: تَزَوَّجْتُ أَنْصَارِيَّةً، قَالَ: فَمَا سُقْتَ إِلَيْهَا، قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے حمید طویل نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (ہجرت کر کے مدینہ) آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دو بیویاں تھیں۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے اہل (بیوی) اور مال میں سے آدھے لیں۔ اس پر عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت دے، مجھے تو بازار کا راستہ بتا دو۔ چنانچہ آپ بازار آئے اور یہاں آپ نے کچھ پنیر اور کچھ گھی کی تجارت کی اور نفع کمایا۔ چند دنوں کے بعد ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبدالرحمٰن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5072]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ (مدینہ طیبہ) آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا۔ انصاری کی دو بیویاں تھیں۔ انہوں نے بیویوں میں سے ایک اور مال میں نصف دینے کی انہیں پیش کش کی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارے اہل و عیال اور مال و متاع میں برکت فرمائے! آپ مجھے بازار کا راستہ بتا دیں، چنانچہ وہ بازار گئے اور وہاں سے کچھ گھی اور کچھ پنیر کی خرید و فروخت کی اور نفع حاصل کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دنوں کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: عبدالرحمن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اسے مہر میں کیا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: گھٹلی بھر سونا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری کا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5072]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں