مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (جَوَازُ المُرُورِ أَمَامَ السُّتْرَةِ)
سترہ کے سامنے سےگزرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 773
773 - وَعَنِ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّهٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِكَ الْوَضُوءَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ. مُشَمِّرًا صَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيِ الْعَنَزَةَ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں دیکھا، جبکہ آپ وادیِ بطحاء میں چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں تھے، اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا پانی لیے کھڑے ہیں، اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کے اس پانی کو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، چنانچہ جسے اس میں سے کچھ مل جاتا وہ اسے اپنے جسم پر مل لیتا، اور جسے اس میں سے کچھ نہ ملتا تو وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی نمی حاصل کر لیتا، پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے چھوٹا نیزہ لے کر گاڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ جوڑا زیب تن کیے ہوئے تیزی سے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوٹے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں اور میں نے لوگوں اور چوپایوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ [متفق علیہ] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 773]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (376، 633) و مسلم (249/ 503)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه