🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (لا تَفْسُدُ الصَّلَاةُ بِمُرُورِ الحِمَارِ)
گدھے کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 780
780 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَحَدٌ، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں ایک دن گدھی پر سوار ہو کر آیا، میں ان دنوں قریب البلوغ تھا، جبکہ رسول اللہ اس وقت کسی دیوار کی اوٹ لیے بغیر منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، پس میں ایک صف کے آگے سے گزرا، پھر میں گدھی سے اترا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور خود صف میں شامل ہو گیا، اور کسی نے بھی مجھ پر اعتراض نہ کیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 780]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (493) و مسلم (254 / 504)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں