مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (المَسَافَةُ الَّتِي يُجِيزُ العُبُورَ أَمَامَ المُصَلِّي)
نمازی کے سامنے سے کتنے فاصلے سے گزرنا ٹھیک ہے؟
حدیث نمبر: 789
789 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ السُّتْرَةِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ، وَالْخِنْزِيرُ، وَالْيَهُودِيُّ، وَالْمَجُوسِيُّ، وَالْمَرْأَةُ، وَتُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کے بغیر نماز پڑھے تو گدھا، خنزیر، یہودی، مجوسی اور عورت گزر کر اس کی نماز توڑ دیتے ہیں، اور اگر وہ پتھر پھینکنے کے فاصلے کے برابر اس کے آگے سے گزر جائیں تو پھر اس کی نماز ہو جائے گی۔ “ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 789]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (704)
٭ شک الراوي في اتصاله بقوله: أحسبه .»
٭ شک الراوي في اتصاله بقوله: أحسبه .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف